مقبول خبریں
بین الاقوامی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی کلی کھول دی ہے:سردار مسعود خان
ڈیبی ابراھم کی قیادت میں ممبران پارلیمنٹ اور کمیونٹی رہنماؤں کی لارڈ طارق احمد سے ملاقات
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کی وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر سے ملاقات
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
9ستمبر کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے باہر بھرپور مظاہرہ کرینگے:راجہ نجابت حسین
سوچنے کے موسم میں سوچنا ضروری ہے!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
Projection بمقابلہ Content
پاکستان فلم انڈسٹری کے وہ دن کبھی بھولے نہیں جا سکتے جب فلموں کی سلور جوبلی ہوتی تھی،بڑے نام وحید مراد،محمد علی،ندیم،زیبا اور ایسے بہت سے میگا سٹارز تھے جنہوں نے معیاری کام کیا بلکہ پڑوسی ملک بھارت کو مجبور کیا کہ وہ Contentپہ زیادہ محنت کرے لیکن آہستہ آہستہ Content پیچھے رہ گیا اور وہ پروڈیوسر سامنے آئے جو نہ کام جانتے تھے اور نہ ہی ان کا مقصد فلم انڈسٹری کی خدمت تھا،وہ تو بس رقص اور واحیاتی کو Projectionدے رہے تھے،اسی وقت بس جو بڑے اسٹارز تھے وہ مدھم ہوتے گئے اور کچھ ایسے چہرے سامنے آئے جو صرف فلم کے بڑے پردے پر نظر آنے کے خواہشمند تھے،انہوں نے نام نہاد ڈائریکٹر اور پروڈیوسر کے کہنے پر وہ سب کچھ کیا جو فیملی تو دور کی بات اکیلے بیٹھ کے دیکھنے کے لائق نہ تھا،عوام کے ایک مخصوصی طبقے نے ان فلموں اور فحش گانوں کی برابری کی،گند کتنا ہی سجا کے رکھا جائے لیکن بدبو ضرور آتی ہے،دوسری جانب بھارت کی فلم انڈسٹری بھی 80کے دور میں زوال کا شکار ہوئی،Bاور Cگریڈ فلمیں زیادہ دیکھی اوربننے لگی مگر بہت ہی جلدی اس بات کا ادراک کر لیا گیا کہ فیملیز اس ماحول سے دور ہوتی جا رہی ہے،فوراً ہی بڑے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر نے اس کا سد باب کیا اور فلم کےContentپر پوری توجہ دی،جس کا ثمر آج بھارت پوراEnjoy کر رہا ہے اور وہ اس انعام کا مستحق بھی ہے،آج انڈین فلم دنیا کے کس ملک میں پیش نہیں کی جا رہی،امریکہ،کینیڈا،یورپ،عرب ریاستیں اور جانے کہاں نہیں بلکہ اگر کہا جائے ساری دنیا بشمول چائنہ ہر جگہ انڈین موویز دیکھی جاتی ہیں،اب دیکھتے ہیں کہ کیا یہ بھی بھارت کی ایک سازش تھی،جواب ہے نہیں،وہ ڈیم بنائیں تو سازش،کیا ہمارے پاس مزدور نہیں،وہ سفارتی سطح پر پاکستان کو بدنام کریں تو کیا ہمارے پاس سفارتکار نہیں،اصل محنت بڑی چیز ہے صاحب۔جس ملک کا آج بھی مسئلہ یہ ہے کہ بھٹو زندہ ہے کہ نہیں وہاں کیسے ترقی ممکن ہے،جہاں آج بھی نادرا آفس کی لمبی لائن کوBypassکرنے کیلئے500روپے کافی ہیں،وہاں آپ کی ثقافتی سرگرمیاں کیسے پروان چڑھ سکتی ہیں،جس ملک میں ٹی وی چینل دھڑے بندیوں کا شکار ہوں وہاں آگے نہیں بڑھا جا سکتا،بہرحال اس سب مسائل کا حل تو میرے پاس نہیں لیکن پاکستانی فلم انڈسٹری کیلئے کچھ تجاویز ہیں،حکومت کو سب سے پہلے سینما گھروں کی بحالی تعمیر اور مالکان حضرات جو سینما گھروں کو چلا رہے ہیں پر توجہ دینی ہو گی۔اچھی فلموں کو سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے اور بھارت کی طرح ایوارڈ شو کوGlamoring کر کے پیش کرنا چاہئے،فلم کے متعلقDOPکیمرہ مین،لائٹ مین کو باہر کے ممالک سے لانا پڑے گا کیونکہ پاکستانی عوام خصوصاً نوجوانBahubaliجیسی فلموں کے دیوانے ہیں،Animatedپر کام کرنے کی بہت ضرورت ہے،اب فلموں میں Larger Then Lifeکردار پسند کئے جاتے ہیں تو اس پر کام کرنا پڑے گا۔میری دعا ہے کہ پاکستان کا ہر ادارہ ترقی کرے اور ہم اصل میں ملک کا نام روشن کریں اور ساتھ ہمارے ججز سے بھی التماس ہے کہ کرپشن کیسز میں بجائے سیزیلین مافیا پر بنی فلموں کا حوالہ دینے سے بہتر ہے پاکستانی فلموں کا حوالہ دیا جائے۔