مقبول خبریں
بین الاقوامی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی کلی کھول دی ہے:سردار مسعود خان
ڈیبی ابراھم کی قیادت میں ممبران پارلیمنٹ اور کمیونٹی رہنماؤں کی لارڈ طارق احمد سے ملاقات
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کی وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر سے ملاقات
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
9ستمبر کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے باہر بھرپور مظاہرہ کرینگے:راجہ نجابت حسین
سوچنے کے موسم میں سوچنا ضروری ہے!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سیاسی ،سماجی کمیونٹی شخصیت بابو لالہ علی اصغر کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بارے میٹنگ کا انعقاد
راچڈیل (محمد فیاض بشیر)راچڈیل کے مقامی ریسٹورنٹ میں سیاسی سماجی کمیونٹی شخصیت بابو لالہ علی اصغر نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ تشویشناک صورتحال بارے ایک میٹنگ کا انعقاد کیا جس میں یورپین پارلیمنٹ کے لیے نارتھ ویسٹ ریجن سے نو منتخب رکن کرس ڈیوس ۔ سری نگر سے آئ منزہ اندرابی کے علاوہ سیاسی سماجی اور کمیونٹی شخصیات نے شرکت کی اور بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کے اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ اس موقع پر کرس ڈیوس کا کہنا تھا کہ بھارت نے کشمیر میں عوام کا حق چھینا جو اچھی بات نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں تشویش ہے کہ جب بھی بھارتی حکومت کشمیر میں کرفیو کے نفاذ کو ختم کرنے کے ساتھ فوج کی تعداد کم کرے گی تو کشمیری اپنا ردعمل ظاہر کریں گے تو جواب میں بھارت کی افواج بھی رد عمل کرے گی دنیا اور بالخصوص یورپین ممالک جہاں کشمیری زیادہ تعداد میں رہائش پذیر ہیں جب صدائے احتجاج میں مذید تیزی لائیں گے تو حالات کشید ہونے کا شدید خطرہ لاحق ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں آزاد مبصرین کو داخلے کی اجازت ہونی چاہیے تاکہ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہو سکے۔ اور جن افراد کو نظر بند کیا گیا ہے انہیں قانونی رسائی ہونی چاہیے۔یورپین پارلیمنٹ کے اجلاس بارے ان کا کہنا تھا کہ اگلا اجلاس ستمبر کے شروع میں ہو گا وہاں کشمیر بارے قرارداد پیش کر کے منظور کروانے کی کوشش کی جائے یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے انڈین لابی بھی سرگرم ہو گی۔ کشمیر کے لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔ سری نگر سے آئ منزہ اندرابی نے آب بیتی بیان کر کے سب کو آبدیدہ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی سرکار نے آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کر کے کشمیری قوم کے ساتھ دھوکہ کیا ۔ منزہ اندرابی کا مذید کہنا تھا کہ میرا اپنا والدین کے ساتھ پچھلے بارہ دنوں سے رابطہ نہیں ہو رہا کشمیر کے اندر کیا ہو رہا ہے کچھ پتہ نہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے اندر جو کوئی بھی دیکھ رہا ہے ہماری آواز سن رہا ہے اور انہیں لگ رہا ہے کہ یہ سب کچھ غلط ہے تو برائے مہربانی اس بارے آواز اٹھائیں۔ مقامی کونسلر اینڈی کا کہنا تھا کہ رکن یورپین پارلیمنٹ کرس ڈیوس یورپین پارلیمنٹ میں اس بارے قرار پیش کر کے منظور کروانے کی کوشش کریں گے اور ہم لبرل پارٹی کی سالانہ کانفرنس میں بھی قرار داد منظور کروا کے اس بات کی یقین دہانی کریں گے کہ یہ قومی سطح کا مسئلہ ہو۔ چوہدری محمد بشیر رٹوی کا کہنا تھا کہ لبرل پارٹی کے لیڈر کی جانب سے ابھی تک کوئی پالیسی بیان جاری نہیں ایسا جلد ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کمیونٹی سے کشمیر کے مسئلہ پر باہمی اتحاد و اتفاق پر زور دیا۔ سابق مئیر کونسلر محمد ذوالفقار نے بھی اپنی تشویشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس بات کو ممکن بنائیں گے کہ لبرل پارٹی اس حساس مسئلہ کو جماعتی پالیسی کا حصہ بنائے۔ میٹنگ میں شریک نوجوانوں نے بھی مودی سرکار ہے اقدامات کو غیر جمہوری اور غیر آئینی قرار دیا اور دنیا سے کشمیر کے مسئلہ کو حل کروانے پر زور دیا تاکہ پاکستان اور بھارت جو دو ایٹمی طاقتیں ہیں انکے درمیان حالات مذید کشیدہ نہ ہوں ۔