مقبول خبریں
حضرت عثمان غنی ؓ نے دین اسلام کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا: علامہ ظفر محمود فراشوی
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مودی کا دورہ فرانس، کشمیری و پاکستانی پیرس میں احتجاج کریں:جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت
وہ جو آنکھ تھی وہ اجڑ گئی ،وہ جو خواب تھے وہ بکھر گئے
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیر کے لوگ تب سے کشیدہ صورتحال میں ہیں جب میرے دادا جوان تھے: ملالہ یوسف زئی
لندن (کشمیر لنک نیوز) نوبل انعام یافتہ پاکستانی خاتون ملالہ یوسف زئی نے مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی صورتحال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے عالمی برادری اور متعلقہ حکام پر مسئلہ کشمیر حل کرنے اور کشمیریوں کی مشکلات دور کرنے پر زور دیا ہے۔ملالہ یوسف زئی نے سوشل میڈیا ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ کشمیر کے لوگ تب سے کشیدہ صورتحال میں ہیں جب میں چھوٹی تھی، میرے والد، والدہ چھوٹے تھے حتی کہ میرے دادا دادی جوان تھے۔ سات دہائیوں سے کشمیر کے بچے صرف تشدد کے بیچ پروان چڑھ رہے ہیں۔انہوں نے دو صفحات پر مشتمل اپنے بیان میں مزید لکھا کہ "مجھے کشمیر کی پرواہ ہے کیونکہ جنوبی ایشیا میرا گھر ہے جسے میں بشمول کشمیریوں کے ایک ارب 80 کروڑ عوام کے ساتھ شیئر کرتی ہوں۔ملالہ لکھتی ہیں کہ ہم سب مختلف مذاہب، ثقافت و روایات، زبانیں اور رہن سہن کی نمائندگی کرتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ہم سب امن سے رہ سکتے ہیں۔نوبیل انعام یافتہ ملالہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت پر لکھا کہ "مجھے کشمیری عورتوں اور بچوں کے غیرمحفوظ ہونے پر تشویش ہے، انہیں کشیدہ حالات میں سب سے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ملالہ یوسف زئی نے اپنے پیغام میں تمام جنوبی ایشا کے لوگوں، بین الاقوامی برادری اور متعلقہ حکام سے امید کا اظہار کیا کہ وہ کشمیریوں کی مشکلات دور کرنے کے لیے اقدام کریں گے۔انہوں نے مزید لکھا کہ جو بھی اختلاف ہیں ان سب کے برعکس ہمیں ہمیشہ انسانی حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے اور بچوں اور خواتین کی حفاظت کو ترجیح دینا چاہیے۔ملالہ یوسف زئی نے اپنے پیغام کے آخر میں سات دہائیوں پرانے مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقے سے پر زور دیا۔