مقبول خبریں
حضرت عثمان غنی ؓ نے دین اسلام کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا: علامہ ظفر محمود فراشوی
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مودی کا دورہ فرانس، کشمیری و پاکستانی پیرس میں احتجاج کریں:جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت
وہ جو آنکھ تھی وہ اجڑ گئی ،وہ جو خواب تھے وہ بکھر گئے
پکچرگیلری
Advertisement
HIS EXCELLENCY MR.PRIME MINISTER
پاکستان سے باہر، ہر پاکستانی بالکل اسی طرح اپنے ملک کا نمائیندہ ہوتا ہے جس طرح امریکا سے باہر امریکی اور چین سے باہر چینی۔ امریکا اور برطانیہ میں ایسے سینکڑوں پاکستانی تارکین وطن آباد ہیں جنہیں وہاں رہتے ہوئے تین چار دہائیاں بیت چکی ہیں، ان میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو کبھی پلٹ کر اپنے ملک نہیں آئے، انہیں وہاں کی نیشنیلٹیز بھی مل چکی ہیں اور دیگر حقوق بھی لیکن ایسے تمام لوگ اس سب کے باوجود بھی ہر لمحے اس بارے محتاط رہتے ہیں کہ ان سے کوئی ایسی غلطی نہ ہوجائے کہ لوگ ان کے ملک کو ان کی قوم کو برا بھلا کہنا شروع کردیں۔قومیں ایک روز میں نہیں بن جاتیں، زمانے لگ جاتے ہیں، پھر یہ بھی ہے کہ محض ایک قوم کا روپ دھار لینا بھی کافی نہیں ہوتا،مسلسل اور مستقل بنیادوں پر قومی سربلندی کے لیے جدوجہد بھی کرنا پڑتی ہے۔وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کا حالیہ دورہ امریکا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ان کے دورے کے آغاز سے پیشتر ان کے سیاسی ناقدین نے اس دورے کا مختلف حوالوں سے تجزیہ کیا، کچھ نے اس دورے کو عمران خان صاحب کی بہت بڑی کامیابی قرار دیا جبکہ کچھ لوگ اسے کامیابی قرار دینے سے ہچکچاتے رہے۔ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی تھی جو سیاسی طور پر عمران خان صاحب کے زیادہ قریب نہیں تھے لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ دورہ عمران خان کا نہیں بلکہ وزیر اعظم پاکستان کا دورہ ہے۔وزیر اعظم پوری قوم کا نمائیندہ ہوتا ہے لہٰذااس دورے کی کامیابی پوری قوم کی کامیابی اور خدانخواستہ ناکامی پوری قوم کی ناکامی شمار کی جاتی۔مقام شکر ہے کہ جناب وزیر اعظم کے اس دورے کے نتیجے میں وہ برف ضرور پگھلنا شروع ہوئی جس کے باعث ایک عرصے سے پاکستان اور امریکا کے تعلقات سرد مہری کا شکار تھے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی نہایت زیرک سیاستدان ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان کے دورہ امریکا کو ایک غنیمت موقعہ جانتے ہوئے اپنے ہر انداز اور ہر عمل سے پاکستان اور امریکا کے درمیان بہت سی بے بنیاد غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔افغانستان سے لے کر کشمیر تک ہر موضوع پر بات ہوئی، یقینا شکوے بھی ہوئے ہوں گے اور شکایتیں بھی، سنا ہے ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ڈاکٹر آفریدی کا معاملہ بھی زیر غور آیا ، لیکن سب سے اچھی بات یہ ہوئی کہ صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالث کے طور پر موئثر کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی۔صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم پاکستان کی ملاقات کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر حل ہو یا نہ ہو، ایک بات یہ ضرور ہوئی کہ کشمیر کو ایک ایسے مسئلے کے طور پر زیر بحث لایا گیا جس مسئلے کے حل کی تلاش عالمی امن کے لیے انتہائی ضروری ہے۔اس سے پیشتر بھارتی لابیز نے ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے کر کسی بھی گفتگو کا حصہ نہ بننے دیا جائے۔وزیر اعظم پاکستان اور صدر ٹرمپ کی اس ملاقات کے حوالے سے یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ یہ ملاقات برابری کی سطح پر ہوئی، صدر ٹرمپ نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس پروگرام پرگول مول انداز میں روک ٹوک اور کسی حد تک پابندیوں کے خیال کا اظہار کیا تو ہمارے وزیر اعظم نے نہایت دلیری کے ساتھ جواب دیا کہ اگر ہندوستان اپنے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرے تو پاکستان بھی فوری طور پر ایسا کردے گا۔انہوں نے صدر ٹرمپ کو یہ بھی جواب دیا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے تحفظ کے بارے میں فکرمند ہونے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان اثاثوں کی حفاظت پاکستان آرمی کر رہی ہے جس کے ناقابل تسخیر ہونے میں کسی کو بھی شک نہیں ہونا چاہیے۔ افغانستان کے حوالے سے بھی صدر ٹرمپ نے پاکستان کے اسی موقف کی تائید کی جس کا پاکستان برسوں سے ہر پلیٹ فارم پر اظہار کررہا ہے۔افغانستان کے مسائل کا حل کشمیر کے معاملات کی طرح صرف اور صرف مذاکرت کے ذریعے ممکن ہے۔طاقت کے استعمال نے افغانستان کو ایک ایسا جہنم بنادیا ہے کہ جس میں بھڑکتا آگ کا الائو کسی صورت ٹھنڈا ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔پاکستان نے ہمیشہ ہر پلیٹ فارم پر افغانستان میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔طالبان سے مذاکرات کی بات ہو یا پھر افغانستان میں خوراک اور ادویات کے بحران کا معاملہ ہو یا پھر افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری جنگ و جدل سے پریشان افغان مہاجرین کی پاکستان میں آباد کاری کا ایشو ہو، پاکستان نے ہمیشہ آگے بڑھ کر اپنے افغان بھائیوں کی مدد کی ہے۔یہی سبب ہے کہ افغانستان کے لوگ آج بھی پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور پاکستان کے لیے ہر طرح کی اچھائی کے خواہاں بھی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ گزشتہ بارہ پندرہ برس میں، بھارت نے بھی معاشی اور اقتصادی حوالے سے افغانستان میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کی ہے اور سچ یہ ہے کہ اسے اپنے مقصد میں بڑی حد تک کامیابی بھی ہوئی ہے لیکن اقتصادیات کے زور پر محبتوں کو خریدنا کبھی بھی ممکن نہیں ہوتا۔دنیا کو یہ تاثر دینے کے لیے کہ افغانستان کے لوگ پاکستان سے نفرت کرتے ہیں، گزشتہ دنوں ورلڈ کپ کے ایک میچ کے دوران سٹیڈیم میں موجود افغانی ہونے کے دعوے دار کچھ نادانوں نے پاکستانی تماشائیوں پر حملہ بھی کردیا۔ پاکستانیوں نے بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے برداشت سے کام لیا۔ اگر ان حملہ آوروں کو ان ہی کی زبان میں ہمارے پاکستانی جواب دیتے تو اس واقعے کے سازش کاروں کو کامیابی ہوتی اور دنیا بھر میں پاکستانیوں اور افغانیوں کی دوریوں کے قصے مزے لے لے کر سنائے جاتے۔مذکورہ واقعے کے بارے میں ہر شخص بخوبی آشنا ہے کہ سٹیڈیم میں پاکستانیوں پر حملہ کرنے والے دراصل بھارت کے Paid-Servantsتھے اور انہیں باقاعدہ ادائیگی کرکے وہاں لایا گیا تھا۔ ویسے بھی عقل یہ بات بات ماننے کو تیار نہیں کہ افغانستان کے لوگ اتنے احسان فراموش ہوں گے کہ اسی ہاتھ کو کاٹنے میں لگ جائیں جو ہاتھ برسوں سے ان کے زخموں کو سہلا رہا ہو۔ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کے دورہ امریکا نے ساری قوم کو اس بات کا یقین دلادیا ہے کہ اگر جذبے صادق ہوں اور ارادے مضبوط تو انسان راستے کی بڑی سے بڑی رکاوٹ کو بھی دور کرسکتا ہے۔یقینا یہ کامیاب دورہ ان تمام لوگوں کے لیے باعث تکلیف ہوگا جنہوں نے اس کے شروع ہونے سے پہلے ہی الزامات اور خدشات کا انتہائی توہین آمیز انداز میں ایک طوفان برپا کردیا تھا۔ایسے لوگ بالعموم سوشل میڈیا پر ہی متحرک دکھائی دیتے ہیں کیونکہ سوشل میڈیا پر ان کی اصل شناخت مخفی رہتی ہے۔ہمارا تو خیال ہے کہ سوشل میڈیا پر طرح طرح کے ناموں سے پوسٹیں آویزاں کرنے والے اکثر پاکستانی ہوتے ہی نہیں۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں پاکستان سے کہیں باہر بیٹھ کر پاکستانیوں کو کبھی مسلک ،کبھی عقیدے اور کبھی سیاسی و لسانی اختلافات میں الجھا کر منہ کے بل گرانا چاہتے ہیں۔ ایسے ہی کچھ لوگوں نے جناب وزیر اعظم پاکستان کے حالیہ دورہ امریکا کے موقعے پر وائٹ ہائوس کے سامنے احتجاجی مظاہروں کا منصوبہ بھی بنایا تھا لیکن انٹرنیشل میڈیا میں ان احتجاجی مظاہروں کی کوریج تو دیکھنے کو نہیں ملی البتہ اس عظیم الشان جلسے نے دنیا بھر میں ضرور دھوم مچا دی جس کا اہتمام سمندر پار پاکستانیوں نے جناب عمران خان کے اعزاز میں کیا تھا۔ایک امریکی اخبار کے مطابق’ اس روز وہاںپاکستانی جھنڈوں کا ایک سمندر تھا جس نے سارے واشنگٹن کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ لگتا تھا کہ واشنگٹن پاکستان میں ہے۔‘دنیا بھر کے نشریاتی ادارے وزیر اعظم پاکستان کے اس دورے کو ایک تاریخ ساز موڑ قرار دے رہے ہیں۔یقین ہے کہ پاکستان اور امریکا کے روابط آنے والے دنوں میں مزید بہتری کی طرف جائیں گے، پاکستان کے اقتصادی مسائل بھی بڑی حد تک کم ہوں گے اور یہ سب ان پاکستان دشمن طاقتوں کے لیے تابوت میں آخری کیل کی طرح ثابت ہوگا جو پاکستان کو ٹوٹی پھوٹی شکستہ اور قریب المرگ حالت میں دیکھنے کے خواہشمند تھے۔ہمیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ہماری اندرونی اور ذاتی سیاسی پسند نا پسنداور سیاسی نکتہ نظر کی ملک سے باہر کوئی مضبوط شناخت نہیں ہوتی۔ ہم جہاں بھی جائیں، دنیا ہمیں ہماری سیاسی جماعت کے حوالے سے نہیں پہچانتی، ہم سے محبت یا پھر نفرت صرف اور صرف ہمارے ملک کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ برطانیہ ہو یا پھر پاکستان،کوئی بھی سیاسی راہنما جب وزیر اعظم بن جاتا ہے تو وہ پھر ساری قوم کا نمائیندہ کہلاتا ہے۔اس کی عزت میں ساری قوم کی عزت، اس کی کامیابی میں ساری قوم کی کامیابی۔جہاں کہیں ملک کا مفاد ہو یا پھر ملک پر کوئی کڑا وقت آجائے تو دانشمندی کا تقاضہ ہے کہ سب ایک ہوجائیں۔جناب بلاول بھٹو نے اپنے ایک حالیہ خطاب میں ایک بہت اچھی بات کہی ہے کہ بہت سے سیاسی اختلافات کے باوجود جہاں کہیں پاکستان کے مفاد کی بات ہوگی، میں حکومت کو اپنی غیر مشروط سپورٹ فراہم کروں گا کیونکہ میرا نظریہ ہے کہ سب سے پہلے پاکستان۔ویسے ایک بات اور بھی ہے کہ مدت سے خرابی کی طرف بڑھنے والے پاک امریکا تعلقات کو بہتر بنانے کا ایک بہت بڑا کریڈٹ صدر ٹرمپ کو بھی جاتا ہے۔یقینا ان کا متوقع دورہ پاکستان صورت احوال کو اور بھی مثبت بنانے میں مزید معاون و مددگار ثابت ہوگا۔