مقبول خبریں
حضرت عثمان غنی ؓ نے دین اسلام کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا: علامہ ظفر محمود فراشوی
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مودی کا دورہ فرانس، کشمیری و پاکستانی پیرس میں احتجاج کریں:جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت
وہ جو آنکھ تھی وہ اجڑ گئی ،وہ جو خواب تھے وہ بکھر گئے
پکچرگیلری
Advertisement
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
یہ کوئی زیادہ پرانی نہیں، پندرہ بیس سال پہلے کی بات ہے، ہمارے ہاں فن و ثقافت کے حوالے سے نہایت اعلیٰ درجے کا کام ہوا کرتا تھا، بہت سی یادگار فلمیں اور ان گنت ناقابل فراموش قسم کے گیت تخلیق ہوئے، پھر نہ جانے کس کی نظر لگی کہ ہم فنی تخلیقات کے حوالے سے بالکل ہی بنجر ہوتے چلے گئے۔ پھر یہ بھی ہوا کہ بہت سے اچھے شاعر، اچھے گلوکار، ڈرامہ نگار، اداکار اور اچھے ہدایت کار اس دنیا سے رخصت بھی ہوتے چلے گئے۔ایک عجیب سا خلا پیدا ہوگیا۔ اب برسوں بعد پاکستان میں نئی اور نہایت معلوماتی فلمیں بنانے کا رواج ایک بار پھر سے دیکھنے میں آرہا ہے لیکن یہ فلمیں ندیم اور شبنم کی فلموں کی طرح نہ تو سٹوڈیو میں بنائی جارہی ہیں اور نہ ہی ان کی نمائش سینما گھروں میں ہورہی ہے، یہ فلمیں تو گھروں کے ڈرائنگ رومز اور ہوٹلوں کی لابیز میں کچھ اس طرح بنائی جارہی ہیں کہ فلم میں کام کرنے والوں کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ انہوں نے کتنی بڑی فلم میں کام کرلیا ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ سوشل میڈیا کے ذریعے گھر گھر پہنچنے والی ان فلموں کے بارے میں کسی کو معلوم ہی نہیں ہوپاتا کہ فلم بنانے والا کون ہے، کہانی کس نے لکھی اور ہدایت کار کون ہے۔لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ ہمارا ٹیلنٹ زندہ ہے،ہم کام کرنا جانتے ہیں اور کام کرنا چاہتے بھی ہیں۔ابلاغ کی ضرورت اورذرائع ابلاغ کی اہمیت کسی بھی زمانے میں کم نہیں ہوتی۔ایک زمانہ تھا کہ جب ذرائع ابلاغ میں صرف فلم، تھیٹر، ٹی وی چینل، ریڈیو اور اخبارات کا شمار ہوتا تھا لیکن اب ان ذرائع میں سوشل میڈیا کا نام بھی شامل ہوچکا ہے بلکہ سر فہرست دکھائی دیتا ہے۔ممکن ہے آنے والے دس بارہ سال میں کوئی اور نیا ذریعہ ابلاغ بھی سامنے آجائے لیکن ہر دور میں ہر طرح کے میڈیا کوایک خاص قسم کے فریم میں محدود رہنے کی بحرحال ضرورت رہے گی۔ یہ سوال الگ ہے کہ یہ حدبندی فریم میڈیا اداروں کو ملک کا آئین فراہم کرے گا یا قانون، حکومت وقت یا پھر سیکیورٹی ادارے۔ترقی یافتہ ممالک میں تو ایک عرصے سے روایت رہی ہے کہ کہ میڈیا پرسنز کسی بھی ایسی خبر یا رپورٹ کو ذمے داران سے مشاورت کے بغیر عوام تک نہیں پہنچاتے کہ جس کے نتیجے میں ملکی استحکام کو کسی بھی طرح کا دھچکا لگنے کا امکان ہو۔ دنیا کے موئثر ترین اور معتبر ترین اخبارات میں ایک بڑا نام نیویارک ٹائمز کا بھی ہے۔1851میں اپنی اشاعت کا آغاز کرنے والے اس اخبار کو اب تک 127بار Pulitzer Prizesمل چکے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ آج دنیا بھر میں امریکا کو جو برتری حاصل ہے اس بر تری کے حصول اور اس کے قائم رہنے میں نیویارک ٹائمز کا بہت اہم کردار ہے۔ماہرین اس اخبار کی رپورٹنگ اور اس میں شائع ہونے والے تجزیاتی مضامین کی غیر جانبداری کو صحافت کی دنیا میں ایک بہترین مثال قرار دیتے ہیں۔گزشتہ جون کے آخری ہفتے میں معروف صحافی بین نارٹن کا ایک مضمون مختلف اخبارات میں شائع ہوا جس میں بین نارٹن نے انکشاف کیا ہے کہ نیویارک ٹائمز اپنی انتہائی شفاف اور غیر جانبدارانہ پالیسی کے باوجود بھی قومی نوعیت کے حساس معاملات پر خبروں اور تجزیوں کی اشاعت سے پہلے بعض مرتبہ حکومتی اداروں سے رضامندی ضرور حاصل کرتا ہے۔ اخبار کی موجودہ اشاعت2,101,611 کے لگ بھگ ہے اور اخبار کی انتظامیہ اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہے کہ معمولی سی بھی غیر ذمے داری اخبار کے لاکھوں قارئین کی مثبت سوچ کو کسی منفی سمت لے جاسکتی ہے۔یہی سبب ہے کہ قومی نوعیت کے انتہائی حساس معاملات کی اشاعت کے بارے میں نہایت احتیاط سے کام لیا جاتا ہے۔نیویارک ٹائمز اور قومی سلامتی کے ذمے دار اداروں کے بیچ رابطوں کا علم عام لوگوں کو اس وقت ہوا جب اس سال 15جون کو اخبار نے ایک مضمون میں یہ دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نے روس کے خلاف سائیبر وار کو نہایت سنجیدگی سے لڑنے کے لیے رویے میں زیادہ سختی برتنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔اخبار کے اس دعوے پر صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیویارک ٹائمز کے اس مضمون کو ملکی سلامتی کے خلاف بغاوت قرار دیا۔ جواب میں نیویارک ٹائمز نے اپنی وضاحتی بیان میں کہا کہ ہمارا اخبار حساس نوعیت کے مواد کی اشاعت سے پہلے اکثر نیشنل سیکیورٹی کے ذمے دار اداروں سے مشاورت کرتا ہے اور ان کی اجازت اور رضامندی کے بغیر قومی سیکیورٹی سے وابستہ کوئی بھی مواد شائع نہیں کیا جاتا۔مذکورہ مضمون کی اشاعت سے پہلے بھی نیشنل سیکیورٹی کے ذمے دار اداروں سے کلئیرنس لی گئی تھی۔ اخبار نے یہ بھی کہا کہ ایسی صورت حال میں پریس پر بغاوت اور سازش کا الزام لگانا کسی طور بھی ملکی مفاد میں نہیں۔نیویارک ٹائیمز کے اس اعتراف نے کچھ عرصہ قبل میڈیا میں موضوع بحث بننے والے کہنہ مشق صحافی جیمز رائیزن کے اس بیان کو بھی سچ ثابت کردیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا میں حکومتی ہدایت پر بہت سی ایسی رپورٹوں کو اشاعت سے روک دیا جاتا جنہیں ملکی مفادات کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔صدر ٹرمپ کے ٹویٹ اور اس پرنیویارک ٹائیمز کے وضاحتی بیان نے امریکی صحافتی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ کچھ ماہرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ سچ لکھنے سے پہلے حکومتی اداروں سے Approvalحاصل کرنا صحافت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے جبکہ ایک بہت بڑی تعداد ایسے تجزیہ کاروں کی بھی ہے جن کا کہنا ہے کہ ملکی مفاد ہر سچائی اور ہر حقیقت سے بڑھ کر محترم اور مقدم ہونا چاہیے۔ ہر سچائی کا تذکرہ لائوڈسپیکر پر نہیں کیا جانا چاہیے۔بہت سی باتیں سچ ہوتی ہیں لیکن ان کا اظہار قومی بنیادوں کو ہلانے کے مترادف ہوتا ہے۔ اگرچہ آزادیء اظہار کی اپنی اہمیت ہے لیکن ملکی سلامتی بہت سی صورتوں میں آزادیء اظہار سے کہیں زیادہ اہم ہوا کرتی ہے۔قارئین کو 2008کے ممبئی دھماکوں میں ملوث ہونے کے جرم میں سزائے پانے والے بھارتی شہری اجمل قصاب کا قصہ یقینا یاد ہوگا۔ دھماکوں کے فوری بعد بھارتی میڈیا نے اجمل قصاب کو پاکستانی شہری ثابت کرنے کے لیے ایک نہایت منظم مہم کا آغاز کردیا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے سب کچھ پہلے سے طے شدہ تھا۔ حکومت پاکستان نے اپنی صلح جوئی اور امن پسندی کی دیرینہ روایات کے عین مطابق اس سانحے پر اظہار افسوس بھی کیا اور اس کی مذمت بھی اور ساتھ ہی ساتھ اس الزام کی تردید بھی کی کہ اجمل قصاب کا تعلق پاکستان سے ہے۔پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے بھی حکومتی موقف کو سپورٹ کرنے کے لیے ہر ممکن جدوجہد کی، دنیا کو معلوم ہوا کہ بھارتی میڈیا نے اپنی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں اجمل قصاب کو پاکستانی ثابت کرنے کی جو مہم چلائی تھی وہ بالکل ہی بے بنیاد ہے لیکن اسی دوران پاکستان کے ہی ایک پرائیویٹ نیوز چینل نے حکومت پاکستان کے موقف کو سرے سے جھوٹ کا پلندہ ثابت کرنے کے لیے قصور کے قریب کسی گائوں میں اپنے رپورٹر کو بھیج کر وہاں مقامی لوگوں سے بیان لینا شروع کردیا کہ اجمل قصاب اسی گائوں کا رہائشی ہے۔ مذکورہ چینل کی اس غیر ذ مے دارانہ رپورٹنگ نے بھارت کو پاکستان کے خلاف شور مچانے کا ایک نہایت مضبوط جواز فراہم کردیا۔آج اسی غلط رپورٹنگ کا نتیجہ ہے کہ انٹرنیٹ پر جہاں جہاں اجمل قصاب کا ذکر آتا ہے، اسے پاکستانی شہری کے طور پر ہی متعارف کرایا جاتا ہے۔یہ بدنامی کا وہ داغ ہے جو ہمارے اپنوں نے ساری قوم کے ماتھے پر خود لگایا ہے۔ ملکی سالمیت کے حوالے سے قومی سلامتی کے ذمے دار ادارے کچھ معاملات میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی راہنمائی ضروری سمجھتے ہوں تو اس عمل کو آزادیء اظہار پر ضرب تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔ترقی یافتہ ممالک میں وسیع تر قومی مفاد کے پیش نظر ملکی سلامتی سے منسلک خبروں اور تجزیوں کو قارئین و ناظرین کے سامنے لانے سے پہلے متعلقہ ذمے دار اداروں سے مشاورت کو ایک قومی فریضہ سمجھا جاتا ہے لیکن ترقی پذیر ممالک میں اس طرح کی مشاورت کوآزادی ء اظہار پر قدغن اور اظہار رائے پر پابندی جیسے عنوانات دے کر ایک عجیب سا طوفان برپا کردیا جاتا ہے۔ایک حیران کن تضاد یہ کہ تر قی یافتہ خوشحال اور طاقتور ممالک میں اگرچہ اس طرح کی مشاورت کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن پھر بھی وہاں کے میڈیا ہائوسز اس حوالے سے محتاط رہتے ہیں شاید اس لیے کہ وہاں بطور قوم اپنی ایک اعلیٰ شناخت کی خواہش ہر ذہن میں گہری جڑوں والے پودے کی طرح ہمیشہ لہلہاتی رہتی ہے جبکہ ترقی پزیر ممالک جہاں اس قسم کی راہنمائی اور مشاورت ازحد ضروری ہوتی ہے وہاں اس راہنمائی اور مشاورت کو بنیادی حقوق پر ڈاکہ قرار دیا جاتا ہے۔اگرچہ پاکستان میں صحافی اور صحافتی ادارے ملکی سالمیت کو لاحق خطرات اور سرحدوں پر مستقل منڈلاتے چیلینجز سے بخوبی آشنا بھی ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے ہر لحظہ تیار بھی لیکن کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی مقام پر ذمے دار حکومتی اداروں سے مشاورت یا ان کی طرف سے راہنمائی معاملات اور صورت حال کو بلاوجہ کی غلط فہمیوں اور پیچیدگیوں سے بچا سکتی ہے۔