مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
قومی خزانے کو جو اربوں روپے کا خسارہ اٹھانا پڑا، وہ سب ایک طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا
اسلام آباد... نیب کی حراست میں اوگرا سیکنڈل کے مرکزی کردار سابق چیئرمین اوگرا توقیر صادق نے انکشاف کیا ہے کہ 2010ء میں گیس یو ایف جی کی شرح 4.5 فیصد سے بڑھا کر 7 فیصد کرنے سے قومی خزانے کو جو اربوں روپے کا خسارہ اٹھانا پڑا، وہ سب ایک طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا۔ باخبر ذرائع کے مطابق توقیر صادق نے انکشاف کیا کہ ممبر گیس اوگرا منصور مظفر علی نے 2009 میں اپنے انٹرویو پینل کے روبرو وعدہ کیا تھا کہ وہ اگلے برس گیس یو ایف جی کی شرح بڑھائے گا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں اسٹاک ایکسچینج میں سوئی سدرن گیس کمپنی اور سوئی ناردرن گیس کمپنی کے شیئرز کی قیمتیں بڑھیں اور اس سے محض چند سرکردہ بروکرز کو اربوں روپے کا فا ئدہ ہوا۔ ذرائع کے مطابق ان بروکرز کو اس فیصلے سے پیشگی آگاہ کر دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ منصور مظفر علی اس وقت بھی ممبر گیس اوگرا کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کا انٹرویو لینے والا پینل اس وقت کے وفاقی وزیر پٹرولیم نوید قمر، سیکرٹری پٹرولیم کامران لاشاری، وفاقی سیکرٹری عبدالرؤف چودھری، توقیر صادق اور سابق نائب چیئرمین اوگرا جاوید انعام پر مشتمل تھا۔ نیب اب کامران لاشاری اور عبدالرؤف چودھری کو بھی نوٹسز بھیجے گا تاکہ ان سے اوگرا سیکنڈل کے حوالے سے مزید معلومات لی جا سکیں۔ توقیر صادق نے دوران تفتیش ایک بار پھر سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور ایک سابق مشیر کے نام لئے ہیں جنہیں نیب ایک بار پھر نوٹس بھیجے گا۔ واضح رہے کہ یوسف رضا گیلانی گزشتہ چاروں نوٹسز کے جواب میں نیب کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر چکے ہیں۔