مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان میں بدعنوانی کے خاتمے کیلئے پیش رفت ہوئی،ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ میں انکشاف
لندن ... برطانوی اٹارنی جنرل کے پرٹش پاکستانیوں کے بارے میں ریمارکس انکی معذرت کے بعد بڑی حد تک پس منظر میں چلے گئے تھے لیکن ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ بذات خود بہت سی باتوں کو افشا کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل دنیا میں کرپشن کے پیمانے کو ماپتی ہے اور مختلف پیرا میٹر استعمال کرتے ہوئے اس امر کی جانچ کرتی ہے کہ کون سا ملک کرپشن میں کہاں کھڑا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے دنیا کے 177 ممالک میں بدعنوانی کے تصور سے منسلک اس سال کی جو فہرست جاری کی ہے اس کے مطابق پاکستان 28 پوائنٹس کے ساتھ 127 ویں مقام پر ہے جب کہ پڑوسی ملک بھارت 36 پوائنٹس کے ساتھ 94 ویں نمبر پر ہے۔ اس ڈیٹا کے مطابق پاکستان نے گذشتہ ایک سال میں کرپشن میں قابو پانے میں بہتری دکھائی جس کی وجہ سے اسکا درجہ بلند ہوا جبکہ بھارت میں ایک سال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہ اسی پوائینٹ پر کھڑا ہے۔ یہ بھی واضع رہے کہ برطانیہ میں بھی ان دو کمیونیٹیز کی ہی اکثریت ہے۔ ایک محتاظ اندازے کے مطابق برطانیہ میں 18 سے 20 لاکھ انڈین اور 14 سے 15 لاکھ پاکستانی رہائش پذیر ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل یوکے چیپٹر کا کہنا ہے کہ برٹش اٹارنی جنرل نے برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی کرپشن پر جو بات کی ادارے کا اس سے کوئی تعلق نہیں تاہم ان کی یہ بات انتہائی اہم ہے کہ ان ممالک کے لوگوں میں آبائی وطن سے لائے گئے تحفے میں کرپشن کا عنصر شامل ہے گویا یہ بات طے ہے کہ یہ کرپشن اب برطانیہ میں ہے۔ جاری کی گئی فہرست میں کہا گیا ہے کہ اقتدار کا غلط استعمال، خفیہ سودے اور رشوت خوری عالمی سطح پر معاشروں کو برباد کر رہے ہیں۔ اس فہرست میں سری لنکا بھارت سے بہتر پوزیشن میں ہے جسے فہرست میں 37 پوائنٹس کے ساتھ 91 واں مقام حاصل ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے چیئرمین ہوگیٹ لابیل کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کے تصور کی فہرست 2013 میں یہ باتیں سامنے آتی ہیں کہ تمام ممالک میں ابھی بھی حکومت کی تمام سطحوں پر مقامی اجازت نامے جاری کرنے سے لے کر قوانین اور ضوابط کی پابندی کرنے اور بنانے تک بدعنوانی کا خطرہ موجود ہے۔ بدعنوانی کی فہرست میں جن ممالک کی حالت بہتر ہوئی ان میں بہت کم یورپی ممالک شامل ہیں لیکن جن ممالک میں کرپشن زیادہ ہوئی ہے ان میں سپین، آسٹریلیا اور آئس لینڈ جیسے ممالک شامل ہیں۔ فہرست2013 میں ڈنمارک اور نیوزی لینڈ 91 پوائنٹس کے ساتھ سب سے کم کرپشن والے ممالک ہیں۔ افغانستان، شمالی کوریا اور صومالیہ اس سال سب سے کم آٹھ پوائنٹس کے ساتھ سب سے زیادہ بدعنوانی والے ملک کے طور پر سامنے آئے ہیں۔