مقبول خبریں
حضرت عثمان غنی ؓ نے دین اسلام کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا: علامہ ظفر محمود فراشوی
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مودی کا دورہ فرانس، کشمیری و پاکستانی پیرس میں احتجاج کریں:جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت
وہ جو آنکھ تھی وہ اجڑ گئی ،وہ جو خواب تھے وہ بکھر گئے
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان امن اوراستحکام کی جانب گامزن، چیلنجزسے نبٹنے کیلئے عالمی تعاون ضروری ہے: جنرل قمر باجوہ
لندن (خصوصی رپورٹ: عمران راجہ) پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے برطانیہ میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیزمیں “پاکستان کے علاقائی سکیورٹی سے متعلق نکتہ نظر“ کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایشیامیں دیرپاامن واستحکام کا دارومدارتنازعات کےجلدحل میں ہے، سیکیورٹی کی بہتر صورتحال سے غیرملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموارہوگی۔ آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے اپنے خطاب کے دوران پاکستان میں بہتر ہوتی ہوئی امن و امان کی صورتحال سمیت قومی سلامتی اورجنوبی ایشیامیں تازہ پیش رفت پر کہا جنوبی ایشیاء میں دیرپا ترقی اور امن و استحکام کا مکمل دار و مدار دیرینہ تنازعات کے جلد حل میں ہے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا پاکستان امن اوراستحکام اورپائیدارترقی کی جانب گامزن ہے، دیرپاامن واستحکام اورپائیدار ترقی کے عمل کو بین الاقوامی شراکت اورتعاون سے مزید تقویت ملے گی ، علاقائی چیلنجزسے نبر دآزما ہونے کیلئے عالمی تعاون ضروری ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ سیکیورٹی کی بہتر صورتحال سے غیرملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموارہوگی،اور علاقائی رابطہ کاری کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوسکے گا ، بلاشبہ علاقائی روابط کے فروغ کیلئے بیرونی سرمایہ کاری کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ برطانوی تھنک ٹینک کے اس سیمینار میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور، پاکستان ہائی کمشنر نفیس زکریا اور لارڈ نذیر احمد سمیت اہم برطانوی شخصیات شریک تھیں۔