مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بے نظیر بھٹو: چراغ بجھ گیا لیکن روشنی زندہ ہے
چونسٹھ سال پہلے، کراچی میں ، ذوالفقار علی بھٹو کے گھر میں پیدا ہونے والی ننھی شہزادی کی پیدایش پر جو جشن منایا گیا تھا اس کی شادمانیوں میں کسی کو علم نہ تھا کہ یہ شہزادی ، اپنے والد کو تختہ دار پر چڑھتے دیکھے گی اور پھر ان کی جانشین بن کر فوجی آمریت کے استبدادی دور میں پیپلز پارٹی کی قیادت کا بوجھ اٹھائے گی اور پھر عالم اسلام کی پہلے خاتون وزیر اعظم کا اعزاز حاصل کرے گی ، لیکن پھر ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لئے قید و بند کی صعوبتیں اور جلا وطنی کے عذاب کا سامنا کرے گی اور وطن واپسی پر شہادت کا جام نوش کرے گی۔ بے نظیر بھٹو، 21جون 1953کو کراچی کے پنٹو ہسپتال میں پیدا ہوئیں۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو اور نصرت بھٹو کی سب سے بڑی بیٹی تھیں۔ کراچی کے لیڈی جینگس نرسری اسکول میں تعلیم شروع کی۔ پھر راولپنڈی کے پرزینٹیشن کانونٹ میں دو سال زیر تعلیم رہنے کے بعد ، مری کے جیزز اینڈ میری کانونٹ بھیجی گئیں جہاں سے وہ پندرہ سال کی عمر میں او لیول کے امتحان میں کامیاب رہیں، اے لیول انہوں نے کراچی گرامر اسکول سے پاس کیا۔ اس کے بعد اعلی تعلیم انہوں نے امریکا میں ہارورڈ یونیورسٹی سے حاصل کی۔ بے نظیر کا کہنا تھا کہ 1969سے 1973تک ہارورڈ کے چار سال ان کی زندگی کے سب سے زیادہ خوشیوں سے بھر پور سال تھے ، جہاں جمہوریت پر ان کا ایمان پختہ ہوا۔ انہیں اس وقت علم نہیں تھا کہ اپنے وطن میں جمہوریت کے لئے انہیں کن مصایب سے گذرنا پڑے گا۔ 1973 سے 1977تک بے نظیر نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے لیڈی مارگریٹ ہال میں فلسفہ، سیاسیات، اور معاشیات کی تعلیم حاصل کی۔ 1976میں بے نظیر آکسفورڈیونین کی صدر منخب ہوئیں اور اس دوران وہ آکسفورڈ مجلس ایشین سوسائیٹی کے صدر بھی رہیں۔ یہ دور اُن کے لئے سخت اذیت ناک تھا جب کہ ان کے والد 1977 میں حزب مخالف کی ملک گیر مہم کا سامنا کر رہے تھے اور آخر کار جنرل ضیاء نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل نافذ کیا اور ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کر لیا۔ ان کے سیاسی حریف احمد رضا قصوری کے والد کے قتل کے الزام میں ان کے خلاف مقدمہ چلایا ۔ 1979میں سپریم کورٹ نے انہیں سزائے موت سنائی اور اپنے والد کے تختہ دار پر چڑھنے کے بعد ، گھر میں نظر بندی کے باوجود بے نظیر نے اپنی والدہ نصرت بھٹو کے ساتھ، بحالی جمہوریت کی تحریک چلائی۔ اسی دوران بے نظیر کو سخت صدمہ پہنچا جب ان کے چھوٹے بھائی شاہنواز بھٹو ، جنوبی فرانس میں پر اسرار طور پر مردہ پائے گئے۔ 1984میں بے نظیر کو علاج کے لئے لندن جانے کی اجازت ملی، جہاں وہ 1987تک مقیم رہیں۔ وطن واپسی پر بے نظیر کی سیاسی طور پر انجان و نا مانوس ، آصف علی زرداری کے ساتھ شادی ہوئی۔ ازدواجی ذمہ داریوں کے ساتھ بے نظیر کوپیپلز پارٹی کی قیادت کا بوجھ بھی سنبھالنا پڑا۔ اور اسی کے ساتھ 1988کے انتخابات کے معرکہ کا بھی سامنا کرنا پڑا، جس میں وہ قومی اسمبلی کی 207نشستوں میں سے 94نشستیں حاصل کر کے کامیاب رہیں اور ایم کیوایم کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل کرنے کے بعد بے نظیر پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں، یوں انہیں عالم اسلام کی پہلی خاتون سربراہ حکومت کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔ وزارت اعظمی پر فایز ہونے سے صرف تین ماہ پہلے ان کا پہلا بچہ پیدا ہوا تھا۔ 1989 میں ISIنے بے نظیر کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کی، جس کو صدر غلام اسحاق خان اور فوج کے سربراہ مرزا اسلم بیگ کی آشیر باد حاصل تھی ۔ مقصد قومی اسمبلی میں بے نظیر کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنا تھا۔لیکن اس سازش کا راز افشا ہونے کی وجہ سے یہ ناکام رہی۔ تاہم اگست 1990میں صدر غلام اسحاق خان نے کرپشن کا الزام لگا کران کی حکومت برطرف کردی۔ اسی سال اکتوبر میں بے نظیر نے عام انتخابات میں اپنی قسمت آزمائی لیکن ناکام رہیں۔ تاہم بائیس سال بعد ، سپریم کورٹ نے فیصہ دیا کہ فوج کی ISIنے ان انتخابات میں دھاندلی کی تھی اور اپنی قایم کردہ IJIکو جتایا تھا۔ بہرحال 1993کے عام انتخابات میں بے نظیر کی قیادت میں پیپلز پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی اور وہ پھر ایک بار وزیر اعظم کے عہدہ پر فایز ہوئیں۔ لیکن یہ دور تنازعات، اور بحرانوں سے بھر پور رہا۔1995 میں ناخوش فوجی افسروں نے بے نظیر کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کی لیکن راز افشا ء ہونے کی وجہ سے ناکام رہی۔ اس سازش میں 36فوی افسر اور 20سویلین ملوث تھے۔ اسی زمانے میں 20ستمبر 1996کوبے نظیر کے بھائی مرتضی بھٹو کراچی میں پولس کے ایک مقابلہ میں جاں بحق ہو گئے۔اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کو قتل میں ملوث ہونے اور کرپشن کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں مرتضی بھٹو کے قتل کے الزام سے بری کردیا گیا لیکن کرپشن کے الزامات میں انہیں آٹھ سال قید کی سزا دی گئی۔ مرتضی بھٹو کے قتل کے ایک ماہ بعد صدر فاروق لغاری نے بے نظیر کی حکومت برطرف کردی۔ بے نظیر سرد جنگ کے اختتام پر برسر اقتدار آئی تھیں اور انہوں نے کھلم کھلا امریکا کا ساتھ دیا تھا تاہم وہ امریکا کی طرف سے افغانستان میں مجاہدین کی حمایت کے سخت خلاف تھیں اور جارج ڈبلیو بش کو خبردار کیا تھا کہ وہ فرینکسٹیں پیدا کر رہے ہیں جو بعد میں امریکا کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔بے نظیر کی یہ پیش گوئی ، القاعدہ کے منظر عام پر آنے کے بعد صحیح ثابت ہوئی۔ بہر حال بے نظیر نے افغانستان میں سویت نواز حکومت کے خلاف جارحانہ پالیسی اختیار کی تھی ۔ بے نظیر ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے لئے کوشاں تھیں اور اسی مقصد کے لئے انہوں نے 1989میں سارک کی سربراہ کانفرنس کے دوران ، اسلام آباد میں وزیر اعظم راجیو گاندھی سے ملاقات کی تھی اور ہندوستان کے ساتھ تجارتی سمجھوتہ کیا تھا۔ راجیو گاندھی کے دور میں پاکستان کے ہندوستان سے خوشگوار تعلقات رہے۔ اس دوران ، ISIکے سربراہ حمید گل نے تجویز پیش کی تھی کہ پاکستان ، ہندوستان کے پنجاب میں خالصتان کی تحریک کی بھرپور حمایت کرے لیکن بے نظیر نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور حمید گل کو بھی ہدایت کی کہ وہ ان خطوط پر نہ سوچیں ۔ بے نظیر کی وزارت اعظمی کے دونوں ادوار میں ان پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے سخت دباو تھا کہ وہ جوہری پروگرام کو ترک کردیں لیکن بے نظیر نے اپنے والد کے دور میں شروع ہونے والے جوہری پروگرام کو ترک کرنے سے صاف انکار کردیا۔ البتہ انہوں نے اپنے والد کی اقتصادی پالیسی کے بر عکس، قومی تحویل میں لی گئی صنعتوں کی نج کاری کا پروگرام شروع کیا۔اس سلسلہ میں ان پر IMF کا سخت دباو تھا اور صنعتی برادری بھی نج کاری کے لئے بے قرار تھی۔ 1993میں بے نظیر قاتلانہ حملہ میں بال بال بچ گئیں۔ اس حملہ کے پیچھے سوات وادی کے صوفی محمدکا ہاتھ تھا جن کے خلاف بے نظیر نے فوجی کاروائی کا حکم دیا تھا۔ اس دوران ان کی حکومت اور خاص طور پر ان کے شوہر آصف علی زرداری کے بڑھتے ہوئے کرپشن کی وجہ سے ان کی سیاسی مقبولیت تیزی سے گری اور یہی وجہ تھی کہ1997کے عام انتخابات میں بے نظیر ناکام رہیں اور اس کے بعد انہوں نے دبئی میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر لی ۔ اس دوران نیویارک ٹایمز نے انکشاف کیا کہ بے نظیر اور ان کے شوہر کے آف شور ایک سو ملین ڈالر کے اثاثے ہیں اور برطانیہ میں سرے میں 350ایکڑ پر راک ووڈ اسٹیٹ بھی ان کے اثاثوں میں شامل ہے۔ فوجی آمر پرویز مشرف کے ساتھ اپنے خلاف کرپشن کے تمام الزامات سے بری ہونے کے لئے NROکے سودے کے تحت بے نظیر 18اکتوبر 2007کو وطن لوٹیں ۔ واپسی پر کراچی میں ان کے قافلے پر دھشت گرد حملہ ہوا جس میں 180افراد ہلاک ہوگئے ۔ ان میں بیشتر ان کی پیپلز پارٹی کے کارکن تھے۔ بے نظیر اس حملہ میں بال بال بچ گئیں لیکن ابھی دو مہینے ہی گذرے تھے کہ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک اجتماع کے اختتام پر ان پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ جاں بحق ہوگئیں، اور ان کی زندگی کا وہ سفر ختم ہوا جو انہوں نے 54سال پہلے کراچی سے شروع کیا تھا۔ دس سال گذرگئے ، ابھی تک یہ عقدہ حل نہیں ہوسکا ہے کہ کس نے انہیں قتل کیا اور کس کا ان کے قتل کے پیچھے ہاتھ تھا۔ اس بارے میں سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے لیکن کوئی سنجیدہ نظر نہیں آتا۔ویسے بھی پرویز مشرف ، بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے فرار ہوگئے ہیں اور مقدمہ میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔ اس بات پر سب کو حیرت ہوئی تھی جب بے نظیر کے قتل کے بارے میں پاکستان کی پولس اور تفتیشی اداروں کی جگہ ، تفتیش کے لئے اقوام متحدہ کی ایک جماعت کو پاکستان بلایا گیاجو قاتلوں کی نشاندہی میں ناکام رہی۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ بے نظیر عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے اعزاز اور دو بار وزیر اعظم کے عہدہ پر فایز رہنے کے باوجود کرپشن کا آسیب ان کا تعاقب کرتا رہا ۔یہی وجہ ہے کہ بے نظیر ملک میں معاشرتی اصلاحات اور اپنی پارٹی کے نعرہ ، روٹی ، کپڑا اور مکان پر عمل درآمدنہ کر سکیں جس کی ان سے توقع تھی۔ پاکستان میں وہ عدم استحکام کا شکار رہیں اور بڑی حد تک خود بھی عدم استحکام کی ذمہ دار رہیں۔ بہر حال سیاست میں اپنے متنازعہ ورثہ کے ساتھ، بے نظیر دو کتابیں بھی چھوڑ گئی ہیں ،ایک Daughter of Destiny(1989)اور دوسری Reconciliation: Islam and the West (2008)اسی کے ساتھ اپنا اثاثہ بلاول زرداری اور دو لڑکیوں، بختاور اور آصفہ کی صورت میں قوم کو چھوڑ گئی ہیں۔ بے نظیر کی زندگی کا چراغ تو 27دسمبر 2007میں بجھ گیا لیکن اس چراغ کی روشنی ابھی تک زندہ ہے۔