مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی اراکین پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر کے حل بارے گرمجوشی پائی جاتی ہے: ڈیوڈ وارڈ ایم پی
بریڈ فورڈ ... یارکشائر اور لنکا شائر کے کشمیری اور پاکستانی سیاسی کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بریڈ فورڈ ایسٹ کے رکن پارلیمنٹ اور برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر دوست ڈیوڈ وارڈ نے پارلیمانی ضوابط اور زیادہ سے زیادہ اراکین پارلیمنٹ سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مدد طلب کرنے کے لیے اپنی تجاویز دیتے ہوئے کہا ہےکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ کم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خود برطانوی اراکین پارلیمنٹ میں بھی اس مسئلہ کے بارے میں قدرے زیادہ گرمجوشی پائی جاتی ہے۔ تحریک حق خودارادیت کے چیئرمین راجہ نجابت حسین کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں لندن میں ہونے والے اجلاس کی توثیق کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ لنکا شائر، یارکشائر اور شمالی انگلستان کے ساتھ ساتھ برطانیہ بھر کے انتخابی حلقوں میں وہاں کے اراکین پارلیمنٹ سے لابنگ کرتے ہوئے انہیں اس امر پر رضامند کیا جائے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو بنیادی انسانی حقوق کے مسئلہ کے طور پر برطانوی پارلیمنٹ میں سوالات کی شکل میں اجاگر کریں اور وزارت خارجہ اور تجارت سمیت مختلف وزارتوں سے اس بارے میں حقائق جاننے کی کوشش کریں۔ راجہ نجابت حسین نے اس سلسلہ میں دستخطی مہم کی ابتدا کرتے ہوئے مختلف پارلیمانی حلقوں میں آباد کشمیریوں کو یہ ذمہ داری تفویض کی کہ وہ اپنے اپنے علاقے کے کشمیریوں سے اس یادداشت پر دستخط کرواتے ہوئے اسے رکن پارلیمنٹ کو دیں، تاکہ وہ اپنے اپنے علاقے کے ووٹروں کی خواہشات پر پارلیمنٹ میں کشمیریوں کی آواز بن سکیں۔ قرارداد کی شکل میں پیش کی جانے والی جس یادداشت پر دستخطی مہم شروع کی گئی اس میں کہا گیا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر نہ صرف علاقہ بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے، جبکہ یہ تنازع پورے خطے میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اور عدم تحفظ کا باعث بن رہا ہے، جبکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر سے عوام کو حق خود اختیاری استعمال کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ قرارداد میں برطانوی اراکین پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ میں اس مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے اس پر باقاعدہ بحث کرے اور مذاکرات کے ذریعہ اس کے حل کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ حاجی چوہدری کرامت حسین کی تلاوت کلام پاک سے شروع ہونے والے اس اہم اجلاس میں سابق لارڈ میئر محمد عجیب، پاکستان کلب کے چیئرمین افتخار احمد، صبیحہ خان، عطرت علی، کونسلر محمد شبیر نے بھی مختلف تجاویز دیں۔