مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
شام میں جہاد کیلئے جانے والے جنگجو مستقبل میں یورپ کیلئے خطرہ، اکثریت بوسنیا سے ہے !
لندن ... برطانوی ممبران پارلیمنٹ کو حال ہی میں ہونے والے ایک سیمینار میں بریف کیا گیا ہے کہ شام میں جہادی کاروایئوں میں مصروف لوگ مستقبل میں برطانیہ کیلئے خطرہ ہو سکتے ہیں۔ اس خدشے کا ماخذ ناروے کی ڈیفنس ریسرچ اسٹیبلشمنٹ کی ایک رپورٹ قرار دی گئی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ یورپ کے مختلف ممالک سے بارہ سو کے قریب جنگجو شام میں شدت پسند تنظیموں کے شانہ بشانہ لڑنے جا چکے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے دو سے لے کر چار سو جنگجو شام گئے ہیں۔ اور سب سے زیادہ جنگجو جہاں سے شام جا رہے ہیں وہ بوسنیاہے۔ ڈاکٹر ہیگ ہیمر کا کہنا ہے کہ ماضی میں دیکھنے میں آیا ہے کہ جس ملک سے جنگجو بیرون ملک لڑائی میں حصہ لینے گئے ہیں وہ واپس آ کر شدت پسند گروہ میں شریک ہوئے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگجو اپنے ملک واپس پہنچ کر چند سالوں کے وقفے کے بعد کارروائیاں کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ وقفہ افغانستان کے کیس میں چار سال کا تھا اور یمن کے کیس میں تین سال کا تھا۔ تحقیق کے مطابق جو لوگ دوسرے ممالک جہاد لڑنے جاتے ہیں ان کا واپسی کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا اور وہ شہید ہونا چاہتے ہیں۔ شام میں لڑنے کے لیے گئے ایک جنگجو کے گھر سے جب ان سے سکائپ پر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی سکیورٹی سروس کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان کا واپسی کا کوئی ارادہ نہیں۔ ابھی تک برطانیہ میں شام سے منسلک دہشت گردی کی کارروائی پر کسی کو سزا نہیں ہوئی ہے۔ تاہم ڈاکٹر ہیگ ہیمر کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں کی ملک واپسی سے سکیورٹی کا خدشہ ہمیشہ نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے حوالے سے کچھ مثالیں موجود ہیں لیکن بہت کم مثالیں صومالیہ میں جاری پرتشدد کارروائیوں کے حوالے سے ہیں۔ لیکن شام کی صورتِ حال اگلے بیس سالوں میں جہادی شدت پسندی کا مسئلہ یورپ میں پیدا کرے گی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ دنیا میں ہونے والے دیگر مسلح تصادم کی بہ نسبت شام میں زیادہ لوگ گئے ہیں۔