مقبول خبریں
مدر فائونڈیشن گوجرخان کے روح رواں راجہ عرفان کی برطانیہ آمد پر انکے اعزاز میں استقبالیہ
ماحولیاتی آلودگی کے باعث بچہ ماں کے رحم میں مر جاتا ہے یا اسکی افزائش رک جاتی ہے: ایک تحقیق
پاک سر زمین پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری محمد رضا کی زیر صدارت عہدیداران و کارکنان کا اجلاس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
پروفیٹک گفٹس ویڈنگ اینڈ ایونٹس آرگنائزر کے زیر اہتمام ایشین ویڈنگ اینڈ پلانرز ایونٹ کا انعقاد
میرے تمام خواب نظاروں سے جل گئے
پکچرگیلری
Advertisement
میرے سارے خواب سمندر جیسے ہیں!!!!!!!
افواہیں صرف خوف پھیلاتی ہیں، لوگوں کو بھٹکاتی ہیں، اچھی بھلی خوشگوار سی زندگی کو جہنم بنا دیتی ہیں۔یہ افواہ ساز فیکٹریوں کی کاریگری ہے کہ آج پاکستان میں جس کو دیکھو ڈالر کے بارے میں فکر مند ہے، اور قابل غور بات یہ کہ ان فکر مندوں میں اکثریت ان کی ہے جنہوں نے زندگی میں کبھی ڈالر کو براہ راست دیکھا تک نہیں ہوگا۔ کچھ ہمدردوں نے سوشل میڈیا پر پچھلے چار پانچ روز سے ’ڈالر کا بائیکاٹ کرو‘ کے عنوان سے ایک مہم بھی چلا رکھی ہے، لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ ڈالر کسی صورت نہ خریدیں نہ بیچیں۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ بھی تواتر سے گردش کر رہا ہے جس میں ڈالر کو نذر آتش کرنے کی ترغیب بھی دی جارہی ہے۔سوال یہ ہے کہ ہم کن لوگوں کو ڈالر کی خریدو فروخت سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں کہ جن کے پاس اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی وسائل نہیں، انہیں کہ جن کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ڈالر کی خریدو فروخت کیسے کی جاتی ہے اور وہ کہ جو کبھی ڈالر کے پاس سے بھی نہیں گذرے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو پاکستانیوں کو ڈالر جلانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔کیا ڈالر جلانے سے ہمارے نظام میں ڈالر کی اہمیت ختم ہوجائے گی؟ اور ان سب سوالوں سے بڑھ کر ایک سوال اور بھی ہے کہ کیا ڈالر وہ واحد قوت ہے جس کے بغیر ہمارا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا، ہم تباہ و برباد ہوجائیں گے،فنا ہوجائیں گے؟؟ان دیکھی طاقتوں کی طرف سے ہمارے معاشرے میں خوف و ہراس اور سراسیمگی پھیلانے کا رویہ کسی طور بھی نیا نہیں۔چونکہ آجکل سوشل میڈیا سے زیادہ موئثر ذریعہ ابلاغ اور کوئی بھی نہیں، لہٰذا ابلاغ اور پیغام رسانی کے لیے اسی ہتھیار کو سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔آپ کبھی غور کریں کہ فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ پر آپ کو بارہا رضاکارانہ طور پر پیش کی جانے والی ویڈیوز دکھائی دیں گی جن کے عنوانات کچھ یوں ہوں گے’۔۔۔دس علامات جو آپ کو کینسر کی پیشگی اطلاع دیں گی!!!!!ہیپیٹائٹس سی کی پانچ نشانیاں!!!!!آپ کے لائف پارٹنر کے بے وفا ہونے کے دس اشارے!!! وغیرہ وغیرہ۔کم وسائل لوگ خوف اور خدشات کا زیادہ شکار رہتے ہیں، علامتوں ، نشانیوں اور اشاروں کے جھانسے میں آکر فوری طور پر ڈیپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔معاشرے میں ڈیپریشن کا شکار لوگوں کی تعداد بڑھانا بھی ففتھ جنریشن وارFifth Generation Warکا حصہ ہے۔ آجکل قوم کو بہکانے کے لیے کچھ انٹرنیٹ اخبار بھی نہایت متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان اخبارات کے نام بھی بین الاقوامی اشاعتی اداروں سے ملتے جلتے رکھ دیے جاتے ہیں۔کچھ عرصہ پہلے تک بی بی سی اردو نیوز، بی بی سی ڈاٹ کام،بی بی سی نیوز الرٹ سے ملتے جلتے ناموں کے انٹرنیٹ نیوز پیپرز پاکستانی عوام کو خوفزدہ اور ہراساں کرنے میں مصروف تھے اور آجکل ایک امریکی اشاعتی ادارے سے ملتے جلتے نام کا ایک انٹرنیٹ پیپر اسی کام میں لگا ہوا ہے۔منظور پشتین کے کارنامے ہوں یا پھر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف پراپگینڈہ،گلگت بلتستان میں راء کی ایجنٹی کرنے والے مکروہ کردار ہوں یا پھر مذہبی و لسانی منافرت پھیلانے والی تنظیمیں اس طرح کے کئی نام نہاد انٹرنیٹ اخبار نہایت میٹھی زبان اور معتبر انداز میں ہمارے لوگوں کو گمراہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہتے ہیں۔یوں سمجھ لیں کہ ہر وہ معاملہ جسے اٹھانے سے پاکستان میں داخلی انتشار پیدا ہونے کا امکان ہو، اس طرح کے اخبارات کے لیے انتہائی محبوب موضوع بن جاتا ہے۔ ویسے ہمارے مقامی پرنٹ میڈیا میں بھی چند ایک کردار ایسے ہیں جو حکومتی اقدامات اور بالخصوص گارگل ایشو جیسے مسائل میں بھی قوم کو الجھائے رکھنے کی بھرپور جدوجہد میں مصروف رہتے ہیں گو کہ ایسے کرداروں کی تعداد اب کافی حد تک کم ہو گئی ہے۔ اگر کوئی اور ملک ہوتا تو ایسے ملک دشمن پیجز اور قوم دشمن کرداروں کو کو فوری طور پر قانون کی گرفت میں لا کر انہیں بین کردیا جاتا مگر نہ جانے کیوں ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔ جہاں تک آئی ایم ایف کے قرضوں اور ان کے نتیجے میں قوم پر پڑنے والے بوجھ کا تعلق ہے تو یقین رکھیے کہ یہ صورت حال گزشتہ کئی برسوں سے نظر انداز کی جانے والی مالی بد انتظامیوں کا نتیجہ ہے۔ قرض کوئی بھی لے، کہیں سے بھی لے، اس سے فوری طور پر اقتصادی معاملات کا رکا ہوا پہیہ گردش میں تو آجاتا ہے لیکن اس قرض کے منفی اثرات کچھ وقت گزرنے کے بعد سامنے آتے ہیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ اگر قرض کی رقم کسی پیداواری یعنیProductiveکام پر خرچ کی جائے تو بھی صورت حال زیادہ بگڑنے سے محفوظ رہتی ہے، بصورت دیگر معاملات بہت زیادہ الجھ جاتے ہیں۔انفرادی سطح پر بینکوں سے کاروبار وغیرہ کے لیے حاصل کیے جانے والے قرض کے معاملے میں بھی یہی دیکھا گیا ہے کہ مکان کی تعمیر یا کاروبار کی وسعت کے لیے حاصل کردہ قرض کو لوگ گاڑیاں خریدنے یا پھر سیرو تفریح پر اڑا دیتے ہیں جس کے باعث مستقبل قریب میں انہیں بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کو بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے۔تاہم یقین رکھیے کہ یہ ساری صورت حال نہایت عارضی نوعیت کی ہے۔ جلد معاملات سنبھل جائیں گے۔ہمیں اپنے آپ کو جذباتیت سے بچانا ہوگا۔سوچ سمجھ کر، عقلمندی سے اٹھائے جانے والے قدم کبھی بھی ضائع نہیں ہوتے۔اگر آنے والے چند ماہ میں ہمیں کچھ سختیاں برداشت بھی کرنا پڑ جائیں تو اس سے زندگی ختم نہیں ہوجاتی۔ ہر اندھیری رات بالآخر سورج کی روشنی کے سامنے دم توڑ دیتی ہے۔ آجکل ’ ڈالر بائیکاٹ‘ کی جو مہم ہمارے سوشل میڈیا پرچل رہی ہے اس میں عوام کو درآمدی اشیا کے استعمال کا بائیکاٹ بھی کرنے کی ترغیب دلائی جارہی ہے۔ یہ یقینا ایک قابل ستائش عمل ہے، برآمدات زیرو ہوں اور درآمدات کا ڈھیر ہو تو ملکی معیشت پر اس کے اثرات کبھی بھی مثبت نہیں ہوتے، لیکن یہ بات اپنی جگہ قابل غور ہے کہ ہمارے ملک میں ہر تھوڑے عرصے بعد’ پاکستانی بنیے اور پاکستانی خریدئیے‘ کے عنوان سے مہم کیوں چلانا پڑتی ہے۔غیر ملکی سامان کو کوئی بھی صارف تین صورتوں میں فوقیت دیتا ہے، بہتر معیار، کم قیمت یا پھر دکھاوا۔ ہمارے ہاں دکھاوے کی خاطر غیر ملکی اشیاء خریدنے والے موجود تو ہیں لیکن کم تعداد میں۔ زیادہ تر لوگ بہتر معیار اور مناسب قیمت کے سبب غیر ملکی اشیاء کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ہمارے صنعتکاروں ،کارخانہ داروں، دکانداروں اور تاجروں کو پاکستان میں بنی ہوئی چیزوں پر پاکستانیوں کے ہی عدم اعتماد کی وجوہات پر غور ضرور کرنا چاہیے۔ اور چیزوں کو تو ایک طرف رکھیں،ہمارے ہاں بنائی جانے والی ادویات تک اپنی اثر انگیزی میں غیر ملکی ادویات کے مقابلے میں نہایت کم تر ہوتی ہیں۔الیکٹرانکس،جوتے، شیونگ کا سامان، انرجی سیور،پالش، ٹوتھ پیسٹ، بجلی کے بٹن،خواتین کا سامان زیبائش ، بیٹری سیل،یو پی ایس، آپ فہرست بناتے جائیں، غیر معیاری پاکستانی اشیاء کی تفصیلات ختم نہیں ہوں گی۔ ابھی ہم نے مری مرغیوں، کنکر ملی دالوں،سکرین کے ٹیکوں والے تربوزوں اور رنگ کے سپرے والی سٹرابیریز کا ذکر نہیں کیا۔اب ایسے میں پاکستانی بنیے، پاکستانی خریدیے کا نعرہ بالکل ہی بے اثر ہوجاتا ہے۔ جس معاشرے میں احترام رمضان المبارک کی بجائے کاروباری اہتمام رمضان المبارک کے پیش نظر کیلے کھجوریں ٹماٹر سیب اور اسی طرح کی دیگر اشیاء کی آمد رمضان سے پیشتر ہی ذخیرہ اندوزی شروع ہوجائے، رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی قیمتوں کو آگ لگ جائے، مسلمان معاشرے میں مسلمانوں کو ناجائز منافع خوروں کے شر سے بچانے کے لیے سرکاری رمضان بازار سجانے کی ضرورت پڑ جائے، اس معاشرے میں Be Pakistani, Buy Pakistani جیسے نعروں کی گونج زیادہ دور تک نہیں جاتی۔قصہ مختصر یہ کہ ہم خود اپنی ذات میں قابل اصلاح ہیں، کبھی سوچیے، ایک طرف آمد رمضان سے پہلے ذخیرہ اندوزی کرنے والے ہم ہیں اور دوسری طرف امریکا برطانیہ کینیڈا سویڈن اور اسی طرح کے بہت سے غیر مسلم معاشرے ہیںجہاں رمضان المبارک میں مسلمانوں کی آسانی کے لیے بہترین معیار کی ضروریات زندگی انتہائی کم نرخوں پر فراہم کی جاتی ہیں۔ڈالر تو پہلے بھی کئی بار اونچی اڑان اڑا ہے، پٹرول اور بجلی کے نرخ پہلے بھی بڑھتے رہے ہیں، تھوڑی بہت تنگی ترشی کا سامنا ہوا لیکن ہم مر نہیں گئے۔ قوموں کی زندگی میں ایسے مرحلے آتے رہتے ہیں۔ اصل چیز ہمارے اپنے وجود کی مضبوطی ہے، یہ مضبوطی ایمان کی مضبوطی سے براہ راست منسلک ہوتی ہے۔لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہمارا روپیہ اپنی قدر کھورہا ہے مگر سچائی یہ ہے کہ روپے کی قدر ختم نہیں ہورہی ہے، اس کی بے برکتی میں اضافہ ہورہا ہے۔ یاد رکھیے ، ندی نالوں اور سمندر میں ایک بنیادی فرق ہوتا ہے، سمندر اپنی وسعت اور گہرائی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا، ندی نالے اپنی ہئیت بدلتے رہتے ہیں۔ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ ہم سمندر ہیں۔