مقبول خبریں
مسلم کانفرنس کے رہنما چوہدری بشیر رٹوی کی طرف سے چوہدری علی شان سونی کے اعزاز میں افطار پارٹی
کونسلر محمد صادق نے دوسری بار میئر لندن بارو آف سٹن کا حلف اٹھالیا، کمیونٹی کی مبارکباد
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پلیک گیٹ ہا ئی سکول بلیک برن میں تعینات ٹیچر کیتھرین نے روزے رکھنے شروع کر دیے
میرے سارے خواب سمندر جیسے ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانیہ کی نامور سیاسی و سماجی شخصیت بیرسٹر امجد ملک کی کمیونٹی شخصیات کے اعزاز میں افطار پارٹی
راچڈیل (محمد فیاض بشیر)برطانیہ کی نامور سیاسی سماجی کمیونٹی شخصیت سابق چیئرمین بورڈ آف گورنرز اوررسیز پاکستانی فاؤنڈیشن بیرسٹر امجد ملک نے مقامی ریسٹورنٹ میں ایک افطار پارٹی کا اہتمام کیا جس میں ڈاکٹر لیاقت ملک،ڈاکٹر مقبول ملک ، سابق ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل پنجاب رانا بختیار ، ڈاکٹر انور، محمد اسلم، غلام رسول و دیگر کمیونٹی شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر بیرسٹر امجد ملک کا کہنا تھا کہ ماہ رمضان ہمیں استقامت،صبروتحمل، بھوک پیاس سے غریبوں کا احساس ہوتا ہے کہ وہ کیسے گزر بسر کرتے ہیں ۔ان کا مذید کہنا تھا کہ ہم غیر اسلامی ملک میں رہ رہے ہیں اور یہاں کے شہری ہیں برطانوی غیر مذہب کمیونٹی کو ماہ رمضان میں روزے کی فضیلت واہمیت بارے آگاہی دینا بھی ضروری ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام میں دہشت گردی اور خودکشی حرام ہے دنیا بھر میں ایسے واقعات کا دین اسلام سے کوئ تعلق نہیں اور نہ ہی یہ اسلامی تعلیمات کے زمرے میں آتا ہے ایسا کرنے والوں کا نہ دین نہ مذہب ہے بلکہ وہ تو انسانیت کے بھی لائق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہ رمضان کے دوران ہمیں اپنی مساجد کی خود نگرانی کرنی ہے لندن میں مسلح شخص کے مسجد کے اندر گھسنے کی کوشش کے واقعہ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں برطانوی معاشرے میں ایسے عناصر کی کوئی جگہ نہیں ہے ہم سب باہمی اتحاد و اتفاق سے انہیں عبرت ناک شکست دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بحیثیت مسلمان ہمارا فرض ہے کہ ہم اسلام کے مثبت پہلو کو اجاگر کرنے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امن پسندی، صلح جوئی دوسروں کے مذاہب کا احترام اور اتحاد و اتفاق کے درس کو پھیلانے میں کوئ دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔ رانا بختیار کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کی وبا بہت تیزی سے پھیل رہی ہے ہمیں اپنے کردار عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ مسلمان امن پسند اور محبت کرنے والے لوگ ہیں اور عالمی سطح پر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سازشی عناصر اسے بدنام کرنے کے درپے ہیں لیکن انہیں شکست فاش ہو گی اور دنیا میں امن و محبت اور بھائی چارے کا پیغام عام ہو گا۔ ڈاکٹر مقبول ملک نے اسلاموفوبیا اور برطانیہ میں اسلام بارے نفعرت انگیزی کے واقعات کو باعث تشویش قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردوں کا کوئ مذہب نہیں وہ انسانیت کے دشمن ہیں اور یہ ہمارے مشترکہ دشمن ہیں ہم نے یک آواز اور مذہب سے بالاتر ہو کر اتحاد و اتفاق سے انہیں نیست و نابود کرنا ہے۔ غلام رسول نے بھی لندن مسجد کے باہر ہونے والے واقعہ کی مذمت کی اور مسلمان کمیونٹی کو از خود مساجد کی سکیورٹی سخت کرنے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی تلقین کی اور برطانوی سیکورٹی اداروں کو ایسے عناصر کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچانے کی دوخواست کی۔ دنیا میں امن قائم ہونے پاکستان کی سلامتی وترقی، امت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق اور مقبوضہ کشمیر فلسطین، سیریا کے مظلوم مسلمانوں کی صحت وسلامتی کے لیے خصوصی دعا کی گئ۔