مقبول خبریں
سیاسی ،سماجی کمیونٹی شخصیت بابو لالہ علی اصغر کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بارے میٹنگ کا انعقاد
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت کا کشمیر پٹیشن پر دستخطی مہم کا آغاز ،10ستمبر کو پیش کی جائیگی
کافر کو جو مل جائے وہ کشمیر نہیں ہے!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ملک کی موجودہ کشیدہ اقتصادی صورتحال ہمیں ورثے میں ملی ،جلد ہی قابو پا لیں گے: قاسم سوری
مانچسٹر (محمد فیاض بشیر)پاکستان میں اپوزیشن جماعتیں پچھلے دس سال سے باریاں لیتی رہی ہے اس لئے اب بھی وہاں بیٹھے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ ان کی لیڈرشپ لوٹ مار کی وجہ سے سخت مشکلات کا شکار ہے اور کرپشن کے کیسز نیب ایف آئی اے اور سپریم کورٹ میں ہیں۔یہ باتیں پاکستان قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے تحریک انصاف برطانیہ کے مرکزی رہنماؤں منور خان نیازی عامر چشتی علی ہاشمی کی طرف سے ایک استقبالیہ اور اس کے بعد برطانیہ کی نامور کاروباری شخصیت وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی انیل مسرت کی جانب سے رکھی گئی افطار پارٹی کے موقع پر کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جس طرح خیبرپختونخوا میں نچلی سطح پر اقتدار منتقل کرکے عوامی مسائل تیزی سے حل ہو رہے ہیں اس سے تیزی سے تبدیلی آرہی ہے اور بجٹ کا 30 فیصد حصہ بلدیاتی اداروں کو دیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جلد ہی پنجاب میں بھی بلدیاتی نظام نچلی سطح تک رائج ہو جائے گا اور اس کے بعد صوبہ پنجاب میں بھی تیزی سے ترقی ہوگی۔پاکستان میں بڑھتی مہنگائی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومتوں نے جو قرض لیے ہوئے تھے ان کی قسطیں واپس دے رہے ہیں اس وجہ سے مہنگائی بہت زیادہ ہوگئی ہے لیکن ہم جلد ہی اس پر قابو پا لیں گے اور معاشی صورتحال بہتر ہوجائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے وزیراعظم عمران خان پاکستان کی غریب عوام کو غربت سے نکالنے کے لیے پرعزم ہیں اور چند عرصے بعد آپ کو ایک مختلف پاکستان دیکھنے کو ملے گا۔ان کا کہنا تھا کہ داتا دربار لاہور میں دہشت گردی کے واقعہ میں ملک دشمن طاقتیں ملوث ہیں ہم ملک سے دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ کر کے دم لیں گے اور نیشنل ایکشن پلان پر ہر حال میں مکمل عملدرامد ہو گا۔ ۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ ملک کی موجودہ کشیدہ اقتصادی صورتحال تحریک انصاف کی حکومت کو ورثے میں ملی ہے لیکن ہم اس پر جلد قابو پا لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے جو وفاقی کابینہ میں حالیہ تبدیلیاں کی ہیں وہ ملکی بہتری کے لیے ہیں ٹیکنوکریٹ کی تعیناتی وقت کی ضرورت ہے کہ کیونکہ وہ پیشہ ور افراد ہوتے ہیں اور چیزوں کو بہتر انداز سے چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی دوست ممالک نے جو قرض کی رقم پاکستان کو دی ہے وہ صرف وزیراعظم عمران خان کی مرہون منت ہے کیونکہ انہیں اعتبار ہے کہ یہ شخص لوٹ مار کرنے والا نہیں ہے ان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے لوٹ مار کی ان کا حال دیکھ لیں تین مرتبہ وزیراعظم کے عہدے پر براجمان رہنے والے جیل میں ہیں جو نشان عبرت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک خصوصاً برطانیہ بسنے والے پاکستانیوں نے ہمیشہ ہی عمران خان کے چیرٹیز کاموں میں بڑھ چڑھ کر مدد کی ہے اور اب بھی کر رہے ہیں ۔ تحریک انصاف کو مضبوط بنانے میں آپ لوگوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان وزیراعظم عمران خان کے دور اقتدار میں آگے کی طرف جائے گا اور مستقبل قریب میں پاکستان کے اندر معاشی استحکام ہو گا ۔ بیرون ممالک بسنے والے پاکستانیوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے درینہ مسائل جلد حل ہونے والے ہیں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن ریلوے جو خسارے میں جا رہے تھے اب منافق ہونے لگے اور سیر و سیاحت کے حوالے سے بھی ہم کام کر رہے ہیں اور کئی ممالک کا الیکٹرانک ویزا کردیا ہے جو آن لائن ویزا حاصل کرسکیں گے جبکہ کئی ممالک کے افراد پاکستان پہنچ کر ایئرپورٹ پر ہی سیروتفریح کے لئے ویزا حاصل کرسکیں گے۔ قومی اسمبلی کے ممبر ڈاکٹر علی حیدر خان کا کہنا تھا کہ آج سے پہلے سیاست کی آڑ میں لوٹ مار اور کاروبار کیا جاتا تھا اب ایسا نہیں ہو گا اور اگر عمران خان کی حکومت کو گرانے کی سازش کی گئ تو ملک کمزور ہو گا کیونکہ وہ عوام کی امنگوں کی آخری امید ہیں۔افطار پارٹی میں صاحبزادہ جہانگیر، تاریک انصاف کے کارکنان اور کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔