مقبول خبریں
مسلم کانفرنس کے رہنما چوہدری بشیر رٹوی کی طرف سے چوہدری علی شان سونی کے اعزاز میں افطار پارٹی
کونسلر محمد صادق نے دوسری بار میئر لندن بارو آف سٹن کا حلف اٹھالیا، کمیونٹی کی مبارکباد
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پلیک گیٹ ہا ئی سکول بلیک برن میں تعینات ٹیچر کیتھرین نے روزے رکھنے شروع کر دیے
میرے سارے خواب سمندر جیسے ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مظلوم کے ساتھی ہو کہ ظالم کے طرفدار؟؟؟؟
ابھی چند ہفتے قبل 21اپریل کے دن جب دنیا بھر کی مسیحی برادری ایسٹر کا تہوار منانے میں مصروف تھی،دہشت گردوں نے سکون اور اطمینان کی سرزمین سر لنکا کو 250سے زائد بے گناہوں کے خون سے رنگین کر دیا۔ اگرچہ سری لنکا کے لوگوں کے لیے اس طرح کی دہشت گرد کاروائی کوئی نئی بات نہیں لیکن گزشتہ بارہ پندرہ برس سے وہاں صورت حال انتہائی پر امن تھی۔اس سے پہلے کوئی دو دہائیوں پر محیط عرصے میں بھارت کے پروردہ دہشت گردوں نے وہاں قتل و غارت گری کا وہ بازار گرم کیے رکھا کہ سارے ملک کا نظام تباہ و برباد ہوگیا۔سب سے زیادہ نقصان وہاں کے اقتصادی ڈھانچے کو پہنچا۔کوئی کاروبار کوئی کارخانہ دہشت گردوں کے عتاب سے محفوظ نہیں رہا۔سرکاری افسر بھی ایک عجیب سی خوف کی کیفیت کا شکار تھے۔ بھارتی دہشت گرد جس دفتر میں چاہتے گھس کر سب کچھ ملیا میٹ کر دیتے۔صورت حال اتنی بگڑی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے وابستہ لوگ بھی جان بچاتے، منہ چھپاتے دکھائی دیتے تھے۔بھارتی میڈیا اس صورت حال کو سول وار اور علیحدگی پسندی کی تحریک کا نام دیتا رہا مگر حقیقت میں یہ نہ تو کوئی سول وار تھی نہ ہی علیحدگی پسندی کی کوئی تحریک، یہ سب تو سری لنکا کو مسلسل حالت جنگ میں رکھنے کی بھارتی کوشش کا نتیجہ تھا۔سچ پوچھیں تو بھارت نے کبھی بھی سر لنکا کی آزاد اور خود مختار حیثیت کو تسلیم ہی نہیں کیا۔ بھارتی پالیسی سازوں کی ہمیشہ سے یہی خواہش رہی ہے کہ سری لنکا اقتصادی طور پر استحکام کی منزل کو نہ پہنچ سکے تاکہ اس کے قریب ترین ہمسائے بھارت کو ہر طرح کی مداخلت کا موقعہ ملتا رہے۔سری لنکا میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر کے بارے میں عام رائے یہی ہے کہ وہ خود کو سری لنکا میں بھارت کا وائسرائے تصور کرتے ہیں، وہاں کے سفارتی حلقوں سے میل جول تو دور کی بات ، انہیں اگر صدر اور وزیر اعظم بھی ملاقات کے لیے طلب کریں تو وہ نہ ملنے کے ہزار جواز ڈھونڈ لیتے ہیں۔قصہ مختصر یہ کہ بھارت اپنی جغرافیائی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سری لنکا میں مسلسل مداخلت جاری رکھتا ہے۔ یہ سنہ 2009کی بات ہے جب بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والی ایک دہشت گرد تنظیم LTTe کے سربراہ پربھاکرن کو سری لنکن سیکیورٹی فورسز نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جس کے بعد کئی دہائیوں سے سری لنکا میں جاری بد امنی اپنے اختتام کو پہنچ گئی اور وہاں کی حکومت اور عوام نے سکون کا سانس لیا۔پربھاکرن سے خلاصی یقینا سری لنکا کی سیکیورٹی فورسز کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی تھی لیکن اس کامیابی کے پس منظر میں پاکستان جیسے دوست ممالک کا بھرپور تعاون بھی شامل حال تھا جس کا اعتراف اس وقت کی سری لنکن ائیر فورس کے سربراہ ائر چیف مارشل روشن گونٹیلائک نے اپنے ایک بیان میں بھی کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق سری لنکا نے تامل ٹائگرز سے لڑنے کے لیے پاکستان سے دنیا بھر میں معروف اور مقبول ال خالد ٹینک بھی حاصل کیے تھے۔دراصل پربھاکرن یا اس کی تنظیم LTTe کی حیثیت محض ایک مہرے سے زیادہ کچھ بھی نہیں تھی ، حقیقت میں سری لنکن سیکیورٹی فورسز نے پاکستان کے تعاون سے بھارتی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو شکست دی تھی۔بھارت اپنی اس شرمناک شکشت کو آج تک بھلا نہیں پایا اور آج بھی اس کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح پاکستان اور سری لنکا کے بیچ غلط فہمیوں کے ایسے بیج بو دیے جائیں جو پلک جھپکتے میں گھنے درختوں کا روپ دھار لیں۔21اپریل کو ایسٹر کے موقعے پر سارے سری لنکا کو سوگوار کردینے والے خوفناک دھماکے بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔بھارتی منصوبہ سازوں نے نیوزی لینڈ میں چند ہفتے قبل مسلمانوں کی مساجد پر ہونے والے ظالمانہ حملوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایسی منصوبہ بندی کی کہ سری لنکا میں مسیحی عبادت گاہوں پر ہونے والے حملوں کو مسلمانوں پر نیوزی لینڈ میں ہونے والے حملے کا جواب سمجھا جائے۔بھارت کا خیال تھا کہ عام آدمی چرچوں پر حملوں کو مسلمانوں کی کاروائی سمجھے گا، سری لنکا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھے گی اور بالآخر یہ سارے کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا جائے گا کیونکہ اس خطے میں پاکستان سے زیادہ طاقتور اور کوئی مسلمان ملک نہیں۔ یہاں یہ حقیقت بھی غور طلب ہے کہ سری لنکا میں مسلمان کل آبادی کا 8%ہیں اور ملکی معیشت میں تقریبا ً 25% کے لگ بھگ حصے دار بھی۔ انہیں سری لنکن حکومت اور عوام کی طرف سے مکمل حقوق حاصل ہیں اور وہ وہاں کے سیاسی نظام میں بھی نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے میں اس بات کا دور دور تک کوئی امکان نہیں کہ مسلمانوں کی طرف سے ایسی کوئی بھی کاروائی کی جائے جس سے ان کے ملک سری لنکا کو کوئی نقصان پہنچ سکے، جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، پاکستان نے تو ہمیشہ سری لنکا کی مضبوطی اور استحکام کے لیے عملی کاوشیں کی ہیں جن کا ہر دور میں سرکاری طور پر بھی اعتراف کیا جاتا رہا ہے۔بے گناہ عیسائیوں کو اپنے جنگی جنون کا نشانہ بنانے والے بھارت کی تسلی کے لیے سری لنکن آرمی چیف جنرل مہیش کا وہ بیان ہی کافی ہے جس میں انہوں نے بھارت پر صاف لفظوں میں واضح کر دیا تھا کہ ہمارے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ ایسٹر پر خود کش دھماکے کرنے والے کچھ بمبار بھارتی کشمیر، کیرالہ اور بینگلورمیں دہشت گردی کی تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے 4مئی کو بی بی سی کو دیے جانے والے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ان دہشت گردوں نے مذکورہ علاقوں میں دیگر دہشت گرد تنظیموں کے سرکردہ لوگوں سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔ دوسری طرف سری لنکا کے وزیر اعظم مسٹر وکرما سنگھے نے ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں بھارت کو خبر دار کیا کہ پاکستان کو ایسٹر دھماکوں میں مورد الزام ٹھہرانے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوگی کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ سری لنکا کا تحفظ کیا ہے بلکہ ہم جب بھی ضروری سمجھیں گے ان دھماکوں کی تحقیقات کے لیے پاکستان سے مدد کی درخواست بھی کریں گے۔دہشت گردی کا شکار ہونے والا چاہے کسی بھی عقیدے، مسلک اور نسل کا ہو، مظلوم ہوتا ہے اور دہشت گرد چاہے کسی بھی ملک سے ہو، کسی بھی زمین سے ہو، دنیا اسے بدترین ظالم کے طور پر اپنی لعن طعن کا نشانہ بناتی ہے۔ مودی سرکار کی قیادت میں سری لنکا کے چرچوں میں بے گناہ عیسائیوں کے خون سے جو ہولی کھیلی گئی ہے ، یقینا، مودی سرکار کو اس خون ناحق کا حساب دینا پڑے گا۔ بھارت میں آباد لاکھوں عیسائی بھی سری لنکا میں ہونے والے قتل عام پر احتجاج میں مصروف ہیں، امریکا ، برطانیہ سے لے کر نیوزی لینڈ تک سری لنکا میں ہونے والے اس ظلم نے بھارت کے خلاف نفرت کا ایک ایسا طوفان کھڑا کر دیا ہے جس کے سامنے بند باندھنا یقینا مودی سرکار کے لیے کسی طور بھی ناممکن دکھائی دیتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مارے جانے والے بے ضرر عیسائیوں کے قتل کا بدلہ کون، کس سے اور کب لیتا ہے۔