مقبول خبریں
ایسٹرن پویلین ہال اولڈہم میں آزادکشمیر میں قائم اسلام ویلفیئر ٹرسٹ کے سالانہ چیرٹی ڈنر کا انعقاد
مسئلہ کشمیر بارےیورپی پارلیمنٹ انتخابات پر برطانیہ و یورپ میں بھرپور لابی مہم چلائینگے،راجہ نجابت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
سرچ آپریشن
پکچرگیلری
Advertisement
کرسمس سے قبل ایشیائی گھرانوں میں موجود خالص سونا چوروں کی ہٹ لسٹ پر، متعدد وارداتیں ہوچکی
لندن ... برطانیہ میں کرسمس کی آمد کے ساتھ ہی چوروں نے ایشیائی گھرانوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا، چور متعلقہ گھر میں گھس کر صرف زیورات تلاش کرتے ہیں اور منٹوں میں گھر کا صفایا کرکے رفوچکر ہوجاتے ہیں۔ گذشتہ چند ہفتوں میں ایسی متعدد وارداتوں میں سونے کے شوقین خاندان ہزاروں پائونڈز مالیت کے طلائی زیورات سے محروم ہوچکے ہیں۔ تحقیقاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دنیا میں ایسی ڈیوائسز ایجاد ہو چکی ہیں جو سونے کی موجودگی کا پتہ دیتی ہیں۔ برٹش اور یورپین عام طور پر دس قیراط سے زائد کا سونا نہیں پہنتے لیکن ایشیائی افراد ٢٢ سے ٢٤ قیراط خالص سونے کو ترجیح دیتے ہیں اسی لئے چور زیادہ تگ و دو نہیں کرتے اور کسی بھی روپ میں ایک دفعہ ایشیائی گھر میں گھس کر آلے کی مدد سے جانچ لیتے ہیں کہ یہاں سونا ہے یا نہیں۔ چند روز قبل معروف صحافی افتخار احمد کے صاحبزادے کے ساتھ مشرقی لندن میں ایسی واردات ہوئی، ایکی اہلیہ قریبی سکول سے بچوں کو لینے گئیں پیچھے سے چوروں نے منٹوں میں گھر کا صفایا کردیا۔ اسی طرح جنوبی لندن کے معروف علاقے سرے میں واقع تھیمز ڈٹن کے ایک گھر میں بھی ایسی ہی واردات ہوئی جب چور گھر کے پچھلے گارڈن سے گھر کے اندر داخل ہوئے اور صرف زیورات چرا کر بھاگ گئے۔ جبکہ ایشیائی اکثریتی علاقے مانچسٹر شہر اور گعد و نواح میں بھی ایسی متعدد وارداتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ مقامی ممبر پارلیمنٹ لب ڈیم کے جان لیج نے ان بڑھتی ہوئی وارداتوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اہلیان مانچسٹر خصوصاً اپنے حلقہ وڈنگٹن ویلی رینج چولٹن کے مکینوں کو بذریعہ خط خبردار کیا ہے کہ آج کل مسلح گروہ بعض تکنیکی آلات کے ساتھ لیس ہو کر مختلف طریقوں سے یہ معلوم کرلیتے ہیں کہ آیا ان کے گھروں میں سونا موجود ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ یہ گروہ ان کے آلہ کاروں کے ذریعے سے بڑی بڑی شادیاں اور دیگر پارٹیوں میں ایشین خواتین کو زیورات میں ملبوس دیکھ کر اندازہ لگاتے ہیں اور رات گئے تک جب وہ ان شادی بیاہ اور دیگر پارٹیوں سے باہر نکل کر اپنی کاروں میں سوار ہونے لگتی ہیں یا پھر ان کی کاروں کا یہ لوگ پیچھا کر کے ان کے گھروں کا پتہ معلوم کرلیتے ہیں یا تو انہیں راستے میں بھی اسلحہ دکھا کر خوفزدہ کر کے لوٹ لیتے ہیں یا پھر ان کے گھروں میں زبردستی گھس کر اسلحہ دکھا کر یرغمال بنا لیتے ہیں اور ان سے تمام قیمتی زیورات نقدی وغیرہ لوٹ لیتے ہیں جان لیج ایم پی نے اپنے خط میں پاکستانی خاندانوں کو محتاط رہنے پر زور دیا کیونکہ ان کی اطلاع کے مطابق 50ساٹھ سے زائد ایسی وارداتیں ہو چکی ہیں۔ سونے کے ایک بڑے بیوپاری کا کہنا ہے کہ پرانی قیمتی اشیا کی خرید و فروخت کے ڈیلروں کو روزانہ کی بنیاد پر ایسے افراد کا سامنا رہتا ہے جو یہ کہہ کر سونی کی بنی اپنی شے بیچنے آتے ہیں کہ انہیں رقم کی شدید ضرورت ہے۔ اب کا کہنا ہے کہ انکی طرف سے پیش کردہ جعلی رسید کی بھی فوری طور پر تصدیق ممکن نہیں ہوتی اور سب کے علم میں ہے کہ سونے کا بھائو کتنی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، تصدیق کیلئے حجت کرنے کا مطلب سیدھا سیدھا نقصان ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ برطانیہ میں سونے کے زیورات کی سیل سکریپ میٹل ڈیلرز ایکٹ کے زیر اثر نہیں ہے، اس امر کا فائدہ بھی چور ہی اٹھاتے ہیں۔