مقبول خبریں
بین الاقوامی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی کلی کھول دی ہے:سردار مسعود خان
ڈیبی ابراھم کی قیادت میں ممبران پارلیمنٹ اور کمیونٹی رہنماؤں کی لارڈ طارق احمد سے ملاقات
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کی وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر سے ملاقات
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
9ستمبر کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے باہر بھرپور مظاہرہ کرینگے:راجہ نجابت حسین
سوچنے کے موسم میں سوچنا ضروری ہے!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
قائم لٹس ٹاک تنظیم کاراچڈیل میں دماغی وجسمانی طور پر صحت مند رہنے بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
راچڈیل (محمد فیاض بشیر)راچڈیل میں لٹس ٹاک تنظیم نے ایشیائی اور دیگر کمیونٹی کی دماغی و جسمانی صحت بارے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ مئیر کونسلر محمد زمان نے خصوصی شرکت کیا اور کمیونٹی کی ذہنی اور جسمانی صحت بارے کام کرنے والی تنظیموں کو تعریفی سرٹیفکیٹ بھی دے۔۔لٹس ٹاک کی چئیر پرسن حمیرا حقانی، دی ایشین میڈیکل پروفیشنلز سپورٹ آرگنائزیشن تنظیم کے نمائندگان ڈاکٹر سرور خان، ڈاکٹر سعید، غلام رسول شہزاد ،دماغی امراض کے ماہر ڈاکٹر مقبول احمد کے رضاکار تنظیموں کی نمائندگان انعم، سلمیٰ علی، رضیہ شمیم، نکی نے بھی شرکت کی۔لٹس ٹاک کی چئیر پرسن سماجی و کمیونٹی شخصیت حمیرا حقانی نے کہا کہ برطانیہ میں سرد موسم کے اثرات کی وجہ سے کمیونٹی بے شمار مسائل کا ہوتی ہے ان میں سے ذہنی دباؤ اور جسمانی صحت نمایاں ہیں اسی لیے اس ورکشاپ کا اہتمام کیا ہے تاکہ مل اکٹھے مل بیٹھ کر انہیں حل کریں اور پیشہ ور افراد کے خیالات سے آگاہی حاصل کریں۔apmso آرگنائزیشن کے چئیرمن غلام رسول شہزاد نے کہا کہ لٹس ٹاک ہماری ذیلی تنظیم ہے اس سے پہلے ہم ڈرگ، فالج، اور ذیابیطس بارے کمیونٹی تک طبی معلومات فراہم کرنے بارے ورکشاپس کا انعقاد کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا تھا کہ ذہنی و جسمانی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے پروگرام کا انعقاد ضروری ہے ۔ ڈاکٹر سعید اور ڈاکٹر ہمایوں کا کہنا تھا کہ اس ورکشاپس میں دماغی امراض کے ماہر معالج ڈاکٹر مقبول احمد اور ڈاکٹر سرور خان نے لوگوں کے سوالات کے جوابات دیے جس سے کمیونٹی کی راہنمائی ہوئ۔ رضیہ شمیم کا کہنا تھا کہ وہ پچاس سال سے زائد عرصہ سے برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں اس سے پہلے اتنی مفید ورکشاپ کا انعقاد نہیں ہوا ۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ ذہنی دباؤ، جنسی ہراسگی، جسمانی صحت اور ایشیائی معاشرے میں زبردستی شادیاں کروانا ایسے اہم اور حساس موضوع ہیں جس پر بات چیت کی گئ انکا ہم سب سے تعلق ہے۔ رضا کار تنظیموں کی نمائندگان انعم اور سلمیٰ علی کا کہنا تھا کہ دماغی دباؤ میں شکار افراد کی تعداد بہت بڑی ہے ہم اس مرض میں مبتلا افراد بارے بات نہیں کرتے ہم مذہب اسلام کو ڈھال بنا لیتے ہیں حالانکہ ہمیں اپنے ڈاکٹر سے فی الفور رجوع کرنا چاہیئے۔ان کا مذید کہنا تھا کہ اس ورکشاپ کا انعقاد انتہائی ضروری تھا کیونکہ ہمارے معاشرے میں ذہنی دباؤ کا مرض بڑھ رہا ہے ۔ کئیرنگ اینڈ شئیرنگ گروپ کی نکی نے بھی دماغی امراض میں مبتلا افراد کی بڑھتی تعداد پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور ایسے مذید پروگراموں کے انعقاد کمیونٹی کے لیے فائدہ مند ہے۔