مقبول خبریں
بین الاقوامی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی کلی کھول دی ہے:سردار مسعود خان
ڈیبی ابراھم کی قیادت میں ممبران پارلیمنٹ اور کمیونٹی رہنماؤں کی لارڈ طارق احمد سے ملاقات
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کی وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر سے ملاقات
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
9ستمبر کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے باہر بھرپور مظاہرہ کرینگے:راجہ نجابت حسین
سوچنے کے موسم میں سوچنا ضروری ہے!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانیہ میں جنسی تعلقات کی تعلیم کو پرائمری سکول سے ہی لازم قرار دینے کیخلاف ورکشاپ کا انعقاد
آشٹن انڈر لائن (محمد فیاض بشیر)برطانیہ میں محکمہ تعلیم نے جنسی تعلقات کی تعلیم کو پرائمری سکول سے ہی بچے بچیوں کے لیے لازم قرار دے دیا ہے۔ مسلمان کمیونٹی اس قانون کے خلاف سراپائے احتجاج ہے اور حکومت سے اس پر نظر ثانی کی درخواست کر رہی ہے اور ساتھ میں کمیونٹی کے اندر اس بارے معلومات دینے کے کمیونٹی کے مختلف مکتبہ فکر کے افراد سرگرم ہیں۔ آشٹن سنٹرل مسجد کے کمیونٹی ہال میں اس بارے مظہر خان نے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا جسمیں مولانا قاری زاہد شریف، سکول ٹیچر ماجد حسین کے علاوہ کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔سیمینار کے آرگنائزر مظہر خان نے کہا ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہمیں پتہ ہونا چاہیئے کہ سرکاری سکولوں میں ہمارے بچوں کو کیا پڑھایا جاتا ہے بحیثیت مسلمان ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ ہمارے بچوں کو پرائمری سکول سے ہی جنسی تعلیم کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے اور ہم کیوں سمجھتے ہیں کہ اسلام نے جو درس دیا ہے ۔ان کا مذید کہنا تھا کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ مسلمان کمیونٹی اس چیلنچ کو سمجھے اور اس سے نمٹنے بارے بھی آگاہ ہو اور ہم بتا سکیں کہ پرائمری سکول میں بچوں کو جنسی تعلیم دینا کیوں غلط ہے اور اس بارے اسلامی تعلیمات صحیح ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ورکشاپ کا مقصد اساتذہ کو آگاہی دینے کے ساتھ دوسرے مذاہب کی کمیونٹی کو بھی بتانا تھا کیونکہ یہ خالصتاً مذہبی نہیں بلکہ انسانیت کا مسئلہ ہے اور انسان کو پتا چل سکے کی زندگی گزارنے کا سب سے اچھا طریقہ کیا ہے۔ مقامی سکول ٹیچر ماجد حسین نے کہا کہ جنسی تعلیم پرائمری سکول سے ہی لازمی قرار دے دی گئی ہے اور ورکشاپ میں بتایا ہے کہ سکولوں میں پڑھائی جانے والی جنسی تعلیم کے کیا خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں لہٰذا بحثیت والدین کس طریقے سے اس کا حل نکالنا ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو کس طرح اس بارے تیار کرنا ہے۔ مولانا قاری زاہد شریف نے کہا کہ برطانیہ میں ہم جنس پرستی اور پرائمری سکول سے ہی بچوں کو جنسی تعلیم کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے اس بارے مسلمان کمیونٹی کے اندر شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور مسلمان کمیونٹی نے برطانوی حکومت کو اپنی مختلف تجاویز اور آراء دی ہیں ہمیں اس طرح کی مذید ورکشاپ کا انعقاد کرنا چاہیے تاکہ کمیونٹی کے اندر پرائمری سکول میں جنسی تعلیم بارے آگاہی ہو۔