مقبول خبریں
مسلم کانفرنس کے رہنما چوہدری بشیر رٹوی کی طرف سے چوہدری علی شان سونی کے اعزاز میں افطار پارٹی
کونسلر محمد صادق نے دوسری بار میئر لندن بارو آف سٹن کا حلف اٹھالیا، کمیونٹی کی مبارکباد
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پلیک گیٹ ہا ئی سکول بلیک برن میں تعینات ٹیچر کیتھرین نے روزے رکھنے شروع کر دیے
میرے سارے خواب سمندر جیسے ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سرچ آپریشن
اللہ آپ کو ہمیشہ ایسے منظر سے بچائے کہ جب آپ کسی مریض کے ساتھ ایمبولینس میں ہسپتال کی طرف جارہے ہوں، مریض کی حالت نازک ہو اور اس کے چہرے پر آکسیجن ماسک چڑھا ہوا ہو اور پھر اچانک ایسا ہو کہ سڑک پر ناکہ لگائے دو سپاہی اس ایمبولینس کو روک لیں اور مریض کا شناختی کارڈ طلب کریں۔بحث مباحثے اور تکرار کے دوران مریض کی روح قفس عنصری سے پرواز کر جا ئے اور آپ کے پاس دھاڑیں مار مار کر رونے کے سوا اور کوئی راستہ نہ بچے۔ہمیں اور آپ کو یہ منظر یقینا کچھ ناممکن سا محسوس ہوگا لیکن سچ یہ ہے کہ بھارتی زیر تسلط مقبوضہ کشمیر میں اس طرح کے بھیانک واقعات معمول کا حصہ ہیں۔آجکل سوشل میڈیا پر ایک ایسے ہی واقعے کا ویڈیو کلپ نہایت تیزی سے وائرل ہورہا ہے جس میں ایک باپ اپنے بچے کو حالت خراب ہونے پر ایمبولنس میں ہسپتال لے جارہا تھا، راستے میں اسے ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔اس کے پاس بھی دھاڑیں مار مار کر رونے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں بچا۔افسوس یہ کہ دنیا ہر روز یہ ظلم دیکھتی ہے مگر پاکستان کے علاوہ کوئی ایک بھی نہیں جو اس ظلم کے خلاف مظلوم کشمیریوں کی آواز میں آواز ملائے۔مغربی ممالک نے پرندوں، کتوں حتیٰ کہ کیڑے مکوڑوں تک کے حقوق کے تحفظ کے لیے تنظیمیں اور ادارے بنا رکھے ہیں لیکن کشمیریوں کے حقوق کو شاید انسانی حقوق میں شمار ہی نہیں کیا جاتا۔بعض دفعہ تو شدت سے یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ مغربی ممالک میں انسانی بنیادوں پر مدد کے لیے جو بھی تنظیمیں اور ادارے قائم کیے جاتے ہیں ان میں مسلمانوں کو شاید مدد کے لائق ہی نہیں سمجھا جاتا۔ مغرب کی اسی جانبداری کی ایک روشن مثال دنیا بھر کے مالی معاملات پر نظر رکھنے والا ادارہFATFہے جو منی لانڈرنگ پر بھی نظر رکھتا ہے اور ایسے تمام لین دین پر بھی جس کے بارے میں شبہ ہو کہ یہ لین دین دہشتگردی میں ملوث افراد یا تنظیموں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا جارہا ہے۔FATF فائننشیل ایکشن ٹاسک فورس کا مخفف ہے اور اس ادارے کا قیام 2000 سنہ دکے اواخر میں عمل میں آیا تھا۔ یہ ادارہ ہر کچھ عرٖے بعد ایک فہرست جاری کرتا ہے جس میں ان ممالک پر مختلف قسم کی مالی پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی جاتی ہے جو غیر قانونی منی لانڈرنگ کو روکنے میں ناکام رہتے ہیں۔ پہلے وارننگ جاری کی جاتی ہے اور پھر مکمل پابندی عائد کردی جاتی ہے۔ جن ملکوں پر پابندی لگائی جاتی ہے ان کا نام ایک فہرست میں شامل کردیا جاتا ہے جسے گرے لسٹ Grey-Listکا نام دیا گیا ہے۔ اس گرے لسٹ میں سے نام نکلتے بھی رہتے ہیں اور نئے شامل بھی ہوتے رہتے ہیں۔FATFنامی ادارے کے بہت سے رکن ممالک ہیں جو کسی بھی ملک پرپابندی لگانے یا نہ لگانے کا کثرت رائے سے فیصلہ کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں باقاعدہ ووٹنگ ہوتی ہے، الیکشن کہیں بھی ہو، لابنگ اور گروپ بازی کے بغیر نہیں ہوتا۔ چنانچہ FATFمیں بھی ملکوں پر نزلہ گرانے کے لیے یا نزلے سے بچانے کے لیے اسی طرح کی گروہ بندی اپنا رنگ دکھاتی ہے۔سنہ2012سے2015تک پاکستان بھی اسی طرح کی گروہ بندی کا شکار ہوکر پابندیوں کا نشانہ رہا۔اقوام متحدہ سے لے کر IMFتک، دنیا کا نظام چلانے والے تمام اداروں میں امریکی مداخلت اور زورآوری سے کون آشنا نہیں۔ FATFمیں بھی صورت حال کچھ ایسی ہی رہی ہے۔ جس زمانے میں پاکستان کا نام Grey Listمیں شامل کیا گیا، اس زمانے میں امریکا پاکستان سے کچھ زیادہ راضی نہیں تھا۔ حقانی گروپ کے خلاف کاروائیوں کا مطالبہ، ڈاکٹر آفریدی کی رہائی کی تمنا، افغانستان میں بھارت کو فری ہینڈ دینے کی خواہش اور اسی طرح کی بہت سی بے بنیاد آرزوئیں، پاکستان نہ تو کوئی کٹھ پتلی ہے نہ ہی موم کی ناک، امریکا کے منہ سے نکلی ہر بات مان لینا ممکن نہیں ہوتا، مختصر یہ کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کمزور ہوگئے اور مراسم میں دراڑ آگئی۔ بھارت کے ساتھ مل کر دنیا بھر میں شور مچا دیا گیا کہ پاکستان دہشت گردوں کی مدد کرتا ہے، کبھی حافظ سعید صاحب کا نام لیا گیا تو کبھی مولانا مسعود اظہر کا، اور بالآخر پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل ہوگیا۔پاکستان معاملات کی اصل سچائی سے بخوبی آشنا تھا، اپنے مخالف ملکوں کا منہ بند کرنے کے لیے بنکوں میں کھولے جانے والے اکائونٹس سے لے کر این جی اوز کو دیے جانے والے اجازت ناموں تک، ہر معاملے میں سختی کا رویہ اختیار کیا گیا، دوسرے ملکوں سے رقم کی آمد و رفت پر بھی کڑی نظر رکھی گئی، FATF میں پاکستان کے دوست ممالک نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکل گیا۔جون 2018میں ایک بار پھر ایسی ہی صورت حال پیدا ہوگئی،اس بار امریکا کو پاکستان سے براہ راست تو شاید کوئی ایسی شکایت نہیں تھی لیکن بھارت کی پاکستان سے ناراضگی کو امریکا نے ذاتی انا کا معاملہ سمجھ لیا۔ بھارت کی پاکستان سے ناراضگیوں کی فہرست بھی بہت طویل ہے لیکن سر فہرست پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کا معاملہ ہے۔ حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر کو بھی بھارت اپنی ’گرے لسٹ ‘ میں اسی حمایت کی بنا پر پر شامل رکھتا ہے۔ شنید یہ ہے کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ جیسے معاملات پر حکومتی اقدامات سے متاثر ہوکر FATFنے آئندہ ستمبر میں پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ FATFکو اس فیصلے کی طرف لے جانے میں یقینا پاکستان کے دوست ممالک کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس کامیابی میں پاکستان کی موئثر سفارت کاری کا بھی اہم کردار ہے۔ گرے لسٹ میں نام شامل ہونے کے کیا نقصانات ہوتے ہیں، یہ سوال اپنی جگہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔گرے لسٹ میں نام شامل ہونے کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لسٹ میں شامل ممالک دنیا بھر میں بدنام ہوجاتے ہیں۔انہیں دہشت گردوں کا سرپرست بھی سمجھا جاتا ہے اور مالی امور میں بد عنوان بھی۔دیگر ممالک ایسے ملکوں سے کوئی بھی معاملہ طے کرتے ہوئے ہچکچاہٹ کا شکار رہتے ہیں بلکہ گریز کرتے ہیں۔عالمی سطح پر تجارتی مراسم نہ ہونے کے باعث ملک میں متوقع بیرونی سرمایہ کاری بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اگر پاکستان کا نام مزید کچھ عرصے گرے لسٹ میں شامل رہا تو پاکستان کو پہنچنے والا معاشی نقصان 10بلین امریکی ڈالر سالانہ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ایسی صورت حال میں کہ جب ملک میں پہلے ہی بہت سے اقتصادی مسائل اپنی تمام تر شدت سے سر اٹھائے ہوئے ہیں، FATFکی طرف سے لگائی جانے پابندی کے دورانیے میں اضافہ بہت سے نئے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ان تمام حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے، گزشتہ مارچ کی 28تاریخ کو وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان نے ایک اعلی سطحی اجلاس کی صدارت بھی کی جس میں چیف آف دی آرمی سٹاف، ڈی جی آئی ایس آئی، وزیر خزانہ اور دیگر حکومتی اور سرکاری عہدے داروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ ہر اس قوت سے سختی سے نمٹا جائے گا تو کسی بھی حوالے سے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث پائی جائے گی۔ ہوتا یوں ہے کہ غیر ملکی ایجنٹ، مختلف لبادے اوڑھ کر پاکستان میں دہشت گردی کے ایسے نیٹ ورک چلانا شروع کر دیتے ہیں جن کی جڑیں ہمارے معاشرے میں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اتنی گہری ہوجاتی ہیں کہ انہیں کھودنا اور اکھاڑنا ممکن نہیں رہتا۔ ان ہی ایجنٹوں کی کاروائیوں کی بنیاد پر ہمارے سارے معاشرے کو دنیا بھر میں بدنام کیا جاتا ہے اور پھر اگلا مرحلہ اس بدنامی کی بنیاد پر FATFجیسے اداروں کی جانب سے مختلف قسم کی پابندیوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ابھی مغربی معاشرے کی طرح ٹوٹ پھوٹ اور ایک دوسرے سے لاتعلقی کی روش پر گامزن نہیں، ہم سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے لوگ ہیں۔ہماری صفوں میں کوئی بھی بدخواہ آسانی سے اپنی جگہ نہیں بنا سکتا، البتہ یہ ضرور ہے کہ ہمارے اپنے ہی کچھ لوگ چھوٹے چھوٹے بے حیثیت مفادات کے لیے بعض دفعہ دشمن کے ہاتھوں میں کھلونا بم بن کر معصوموں کی جان لے جاتے ہیں، اپنی مدد آپ کے تحت ہمیں ایسے کھلونا بموں کے خلاف سرچ آپریشن خود ہی کرنا پڑے گا۔