مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانیہ آکر کام کرنا ہمارا حق ہے، ایسٹرن یورپی ممالک اپنی عوام کیلئے میدان میں کود پڑے !!
لندن ... ایسٹرن یورپی ممالک نے برطانیہ کے اس خدشے کو آڑے ہوتھوں لیا ہے کی اس سال کے آخر پر مدت ختم ہونے کے بعد تارکین وطن ان ممالک سے برطانیہ میں آکر زیادہ بینی فٹس کلیم کرنے لگیں گے۔ اس خدشے کا اظہار برطانوی ماہرین معیشت نے بھی کیا تھا جسکے جواب میں رومانیہ، بلغاریہ، چیک ریپبلک اور ہنگری نے اس پر احتجاج کرتے ہوئے ایک مشترکی اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایسٹرن یورپی باشندوں کی 31دسمبر کو برطانیہ آمد کی پابندی کے خاتمے پر اس طرح کے ریمارکس کسی طور پر صحیح قرار نہیں دیئے جا سکتے۔ ان ممالک سے پڑھے لکھے اور ہنر مند افراد برطانیہ آنے کے منتظر ہیں جو اپنی صلاحیتوں اور قابلیتوں کے بل بوتے پر برطانوی معیشت کو مضبوط کرنے اور پیسہ کمانے کا عزم رکھتے ہیِں۔ برطانوی اخبارات کی رپورٹس کے مطابق نصف برطانوی باشندے رومانیہ اور بلغاریہ کے باشندوں کی برطانیہ آمد کیخلاف ہیں اور ان کاکہنا ہے کہ ان ملکوں کے باشندوں کو برطانیہ میں قیام، ملازمت اور بنیفٹس کلیم کاحق نہیں ملنا چاہئے۔ یہ سروے رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی جب وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون یورپی تارکین پر سخت پابندیاں لگاکر برسلز سے قوت آزمائی کرنے والے ہیں، چینل 5 نیوز سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ 47 فیصد افراد کاخیال ہے کہ ان دونوں ملکوں کے تارکین کوبرطانیہ میں قیام کرنے ،ملازمت کرنے یا بنیفٹس کاکلیم کرنے کاکوئی حق نہیں ہونا چاہئے۔جبکہ 56 فیصد نے خیال ظاہر کیا کہ امیگریشن سے برطانیہ پر منفی اثرات پڑے ہیں۔ کمپین گروپ ”مائیگریشن واچ یوکے“ نے تخمینہ لگایا ہے کہ ان 2 ممالک سے اگلے 5 سال کے دوران 50 ہزار تارکین وطن کی آمد متوقع ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ ہم بلغاریہ اور رومانیہ کے تارکین کے سیلاب کے اثرات پر بڑھتے خدشات کے موقع پر یورپ کے ساتھ مقابلے کی تیاری کررہے ہیں۔ وہ سرکاری بینیفٹس تک تارکین کی رسائی کے لیے مقررہ حد میں توسیع کی خاطر برسلز سے بغاوت کرنے کو تیار ہیں۔ ایسٹرن یورپی ممالک کے چار ارکان کی تشکیل کردہ "وائز گارڈ" نے برطانوی وزیر اعظم کے ان خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ممالک سے برطانیہ جا کر کام کرنے والے پہلے کام کریں گے اور پھر اپنے ٹیکس کے مطابق کسی قسم کے بینیفٹس کلیم کریں گے، کیونکہ انہیں اپنی صلاحیتوں کا علم ہے۔ بلغارین وزیر خارجہ کرسٹین ویجینن نے ڈیوڈ کیمروں کے خیالات کو متعصبانہ قرار دیا ہے جبکہ ڈپٹی لیبر منسٹر رومانیہ کوڈرین سکوتارو نے برطانوی وزیر اعظم کے ریمارکس کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رومانیہ کے باشندے یورپی یونین کے قوانین کے مطابق اپنا حق چاہتے ہیں۔