مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان سمندری زندگی کے عالمی حفاظتی کوڈ پرمکمل کاربند ہے،وزیر پورٹ وشپنگ کامران مائیکل
لندن ... انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن IMO کے 28ویں سالانہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے وفاقی وزیر پورٹ و شپنگ کامران مائکل نے کہا ہے کہ ہم نے سمندر میں زندگی کے انٹرنیشنل حفاظتی کنونشن پر پوری طرح سے عمل کیاہے اور ماحولیاتی آلودگی پر کنٹرول کیلئے ہم نے ایک بورڈ بھی تشکیل دیا ہے اور اس کے بھی بین الاقوامی ضابطے کو لاگو کیا گیا ہے جس پر مکمل عالمی معیار کے مطابق کام ہو رہا ہے۔ لندن میں ہونے والے اس سالانہ اجلاس میں دینا بھر سے سمندری زندگی سے جڑے ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ اس تنظیم کے ممبران ممالک کی تعداد ١٧٠ ہے جبکہ تنظیم اقوام متحدہ کے منظور شدہ اصولوں کے مطابق ایک عالمی این جی او کی طرز پر کام کرتی ہے۔ وفاقی وزیر نے مذید کہا کہ بین الااقوامی اور علاقائی سطح پر سمندری راستے سے تجارت میں اضافے اور محفوظ جہاز رانی بنانا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ پاکستان نیوی اور پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی سمندری حدود کو محفوظ بنا نے کیلئے متعین کردہ علاقوں میں گشت کرنے کے سلسلے میں اپنا کردار پوری ذمہ داری سے ادا کر رہی ہے اور اگر ہمیں مزید ذمہ داری سونپی گئی تو ہم معاہدے کے تحت اس میں بھی اپنا کردار بخوبی ادا کریں گے۔ اآئی ایم او کا یہ عالمی اجلاس ٤ دسمبر تک جاری رہے گا۔ اس سال پہلی دفعہ پاکستان کو اس کے عہدیداروں کے چنائو کے عمل میں ووٹ ڈالنے کا حق بھی ملا۔ اس سال کے انتکابات کے مطابق صدر کا عہدہ برطانیہ میں مقیم ترکی کے سفیر انال سیوکوز کے حصے میں آیا، جبکہ نائجیریا کے لندن میں ہائی کمشنر ڈاکتر دالہاٹو اور برطانیہ میں ری پبلک آف پانامہ کی سفیر اینا ارینے دیلگاڈو نائب صدور منتخب ہوئے۔