مقبول خبریں
حضرت عثمان غنی ؓ نے دین اسلام کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا: علامہ ظفر محمود فراشوی
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خودارادیت کے زیر اہتمام کشمیر کانفرنس،ممبران برطانوی و یورپی پارلیمنٹ کی شرکت
وہ جو آنکھ تھی وہ اجڑ گئی ،وہ جو خواب تھے وہ بکھر گئے
پکچرگیلری
Advertisement
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
مودی صاحب نے بہت شور مچایا کہ ان کی ائر فورس نے گذشتہ فروری میں پاکستان کا ایک ایف سولہ طیارہ مار گرایا تھا مگر دنیا بھر میں کوئی بھی ان کی بات ماننے کو تیار نہیں ہوا، سب ہی ثبوت مانگتے رہے، ثبوت ہوتا تو سامنے آتا ۔اونچی آواز میں شور مچانے سے جھوٹ سچ نہیں بن جاتا، سچ تو سورج کی طرح ہوتا ہے، اپنے ہونے کی خود خبر دیتا ہے۔سورج نکلنے کا اعلان نہیں کیا جاتا۔پاکستان میں حال ہی میں دریافت ہونے والے تیل کے ذخائر کے معاملے کو ہی دیکھ لیں،پاکستان نے کہیں بھی شور نہیں مچایا مگر دنیا جان گئی ہے کہ پاکستان اور پاکستانیوں کے مزید اچھے دن آنے والے ہیں۔ہر طرف ایک ہی موضوع زیر گفتگو ہے کہ پاکستانی سمندر کی تہہ میں تیل کے ایسے ذخائر پوشیدہ ہیں کہ جن کی دریافت کے بعد پاکستان کا شمار تیل پیدا کرنے والے چندانتہائی بڑے ممالک میں ہونے لگے گا۔دلچسپ بات یہ کہ دریافت کا یہ مرحلہ پاکستان کے لیے خوشحالی کے نئے امکانات پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پورے سائوتھ ایشیا میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دروازے کھول دے گا۔ ایک طرف سی پیک منصوبہ اور دوسری طرف تیل ابلتا سمندر، بھارت، ایران، افغانستان سے لے کر امریکا برطانیہ تک، پاکستان سب کی ضرورت بن جائے گا۔پاکستان سے دوستی دشمنوں کی مجبوری بن جائے گی اور اگر ہمارے پیارے مودی صاحب تب بھی مسند نشین ہوئے تو ان کو بھی اپنے انداز فکر پر ازسر نو غور کرنا پڑے گا۔ ان کی پسندیدہ کہانی، بغل میں چھری اور منہ میں رام رام ، بھی ختم ہوجائے گی۔ پاکستانی ایف سولہ طیارے کو مار گرائے جانے کی رام کہانی سنانے والے مودی صاحب بھی ایک عجیب سی شخصیت کے مالک ہیں۔ کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ، اسی لیے دنیا ان کی باتوں کو کچھ زیادہ سیریس نہیں لیتی۔ابھی گذشتہ ماہ انہوں نے 23مارچ کے حوالے سے حکومت پاکستان کو ایک نہایت دلکش پیغام تہنیت بھیجا لیکن ساتھ ہی نئی دہلی میں بھارتی سیکیورٹی ایجنسی کے اہلکاروں کو سخت ہدایات بھی جاری کر دیں کہ پاکستانی ہائی کمیشن میں23مارچ کے حوالے سے جو تقریب منعقد ہورہی ہے اسے ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کیا جائے، کسی بھارتی کو تقریب میں شامل نہ ہونے دیا جائے اور دنیا کو یہ تاثر منتقل کیا جائے کہ مودی صاحب تو دل کے بہت اچھے ہیں، در گذر سے کام لیتے ہیں لیکن بھارتی عوام من حیث القوم، پاکستان کو کسی صورت معاف کرنے کو تیار نہیں۔چنانچہ مودی صاحب کی ہدایات کی روشنی میں بھارتی ارباب اختیار نے تقریب کو ناکام بنانے کے لیے منافقت کی ایک ایسی روش قائم کردی جس کی مثال ملنا ممکن نہیں۔تقریب میں شرکت کے لیے آنے والے سفارت کاروں او دیگرر معززمہمانوں کو جگہ جگہ روک کر تذلیل کا نشانہ بنایا گیا،راستوں میں بے مقصد رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں، قدم قدم پر تلاشیاں لی گئیں حالانکہ تمام مہمانوں کو پاکستانی ہائی کمیشن کی طرف سے خصوصی اینٹری پاس اور گاڑیوں لے لیے سٹیکر جاری کیے گئے تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان میں اس حوالے سے ہونے والی تقریب کا بھی مکمل بائیکاٹ کیا گیا۔ سفارتی آداب کے مطابق پاکستان میں تعینات بھارتی سفارتی عملے کو بھی یوم پاکستان کی سرکاری تقریب میں شرکت کے لیے دعوت نامے جاری کیے گئے تھے لیکن بھارت کی طرف سے تمام سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس تقریب کا بھی بائیکاٹ کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق نئی دہلی میں پاکستانی سفارت خانے کے زیر اہتمام ہونے والی تقریب میں عدم شرکت کے لیے یہ بہانہ بنایا گیا کہ اس تقریب میں مقبوضہ کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے مصروف عمل آل پارٹیز حریت کانفرنس کے نمائیندوں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان مسٹر رویش کمار نے اس حوالے سے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے حریت کانفرنس کے لیڈر صاحبان کی طرف کسی بھی جھکائو کو بھارت تحسین کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ بھارت کا یہ طرز عمل امکانی طور پر پاکستان کی طرف سے چند ہفتے پیشتر ابو ظہبی میں اوآئی سی کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں شرکت سے انکار کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے اس کانفرنس میں شرکت سے اس لیے انکار کر دیا تھا کہ کانفرنس کے منتظمین نے بھارت کو بھی اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز کے وزرائے خارجہ کی اس کانفرنس میں بھارت کی شرکت کا اس لیے بالکل بھی جواز نہیں تھا کہ بھارت سرکاری سطح پر ہمیشہ خود کو ایک سیکولر ریاست کے طور پر متعارف کرواتا ہے، اس لیے ا سلامی ممالک کی کانفرنس میں اس کی موجودگی بے بنیاد محسوس ہوتی تھی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی یقینا نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ سال 2018میں ہونے والی یوم پاکستان کی سرکاری پریڈ میں بھی بھارتی سفارتی عملے کوحسب روایت شرکت کی دعوت دی گئی تو اس دعوت کونہایت گرمجوشی سے قبول کیا گیا تھا۔ پاکستان میں تعینات بھارتی دفاعی اتاشی اور دیگر سفارتی عملے نے تقریب میں شرکت بھی کی حالانکہ لائن آف کنٹرول پر معمول کی بھارتی گڑ بڑ اس دور میں بھی جاری تھی، اس زمانے میں بھی حریت کانفرنس کے لوگ دنیا بھر کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی بھارتی زیادتیوں سے آگاہ کرنے کے لیے مسلسل متحرک دکھائی دیتے تھے، فرق تھا تو صرف ایک کہ وہ زمانہ الیکشن کا زمانہ نہیں تھا ۔ آج مودی صاحب کے رویے میں جو بھی تیزی تلخی دکھائی دے رہی ہے، ماہرین کے مطابق، وہ سب کی سب مصنوعی ہے، دکھاوا ہے، بناوٹ ہے۔ بس تھوڑا سا انتظار اور، مودی صاحب کی ہار ہو یا جیت، بھارت میں انتخابات کے بعد، دونوں ممالک کے بیچ، یہ گرمی کا ماحول ، خوشگوار موسم میں بدل جائے گا۔سچ تو یہ ہے کہ نہ تو پاکستانیوں کو بھارتیوں سے نفرت ہے اور نہ ہی وہاں کے لوگوں کو پاکستانیوں سے، اگر نفرت اور ناپندیدگی کی مصنوعی آگ کو بھڑکایا جارہا ہے تو اس کا ؎ سارا کریڈٹ صرف اور صرف مودی نام کے مٹھی بھر انتہا پسندوں کو جاتا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں پڑھی لکھی سلجھی ہوئی بھارتی قوم کیا اس بار پھر انتہا پسندمودی صاحب کو اپنا نمائیندہ چننے کی غلطی دہرائے گی۔