مقبول خبریں
حضرت عثمان غنی ؓ نے دین اسلام کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا: علامہ ظفر محمود فراشوی
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خودارادیت کے زیر اہتمام کشمیر کانفرنس،ممبران برطانوی و یورپی پارلیمنٹ کی شرکت
وہ جو آنکھ تھی وہ اجڑ گئی ،وہ جو خواب تھے وہ بکھر گئے
پکچرگیلری
Advertisement
ہندوستان کے بارہ کڑوڑرائے دہند ئوں کا قتل عام
اب جب کہ ہندوستان کے عام انتخابات میں گنے چنے دن رہ گئے ہیں یہ انکشاف ہوا ہے کہ رائے دہندوں کی فہرستوں سے بارہ کڑوڑ ووٹروں کے نام غایب ہو گئے ہیں۔ ان میں تین کڑوڑ مسلمان ووٹر ہیں اور چار کڑوڑ دلت ووٹر ہیں ۔بلا شبہ اتنی بڑی تعداد میں رائے دہندوں کی فہرستوں سے ووٹروں کے نام ایک منظم سازش کے تحت غایب ہوئے ہیں جسے قتل عام قرار دیا جارہا ہے کیونکہ رائے دہندوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کرنا دراصل ان کی جمہور ی زندگی سے محروم کرنا ہے جو ایک قتل سے کم نہیں ہے۔ غایب شدہ ووٹروں کی مہم کا کہنا ہے کہ رائے دھندہوں کی سرکاری فہرستوں سے یہ پتہ چلا کہ گیارہ فی صد گھرانے صرف ایک ووٹر والے ہیں ۔ ان اعدادو شمار کا جب مردم شماری کے اعدادو شمار سے موازنہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ مردم شماری میں واحد ووٹر والے گھرانوں کی تعداد صرف ساڑھے چار فی صد ہے ۔ اعدادوشمار کے اس تضاد کے بعد مہم نے جب واحد ووٹرووں والے گھرانوں کی جانچ پڑتال کی تو ان کی تعداد اٹھارہ فی صد نکلی جو حیرت انگیز ہے ۔ مہم کے سافٹ ویر ماہر خالد سیف اللہ کا کہنا ہے کہ مہم نے جب پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے ایک سو سے زیادہ حلقوں کا جایزہ لیا ہے تو انکشاف ہوا کہ تین کڑوڑ مسلمانوں اور چار کڑوڑ دلتوں کے نام رائے دہندوں کی فہرستوں سے غایب ہیں اور وہ اگلے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم ہو جائیں گے۔ ان میں وہ ووٹر بھی شامل ہیں جنہوں نے ۲۰۱۴کے عام انتخابات میں ووٹ ڈالے تھے لیکن نئی فہرستوں میں ان کے نام غایب ہیں۔ ۱۹۸۰ سے لے کر ۲۰۱۴ کے درمیان ، ہندوستان کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں مسلمانوں کی نمایندگی حیرت انگیز طور پر نصف رہ گئی ہے ۔ جب کہ اس دوران مسلم آبادی گیارہ فی صدی سے بڑھ کر چودہ فی صدی تک پہنچ گئی ۔لوک سبھا میں مسلم اراکین کی تعداد نو سے صرف تین رہ گئیْ ۔یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ مسلم آبادی میں اضافہ کے باوجود پارلیمنٹ میں اس کی نمایندگی اتنی کم ہوگئی۔ اس بارے میں دوش تمام سیاسی جماعتوں کو جاتا ہے ۔ کانگریس نے اس الزام سے بچنے کے لئے جو بھارتیا جنتا پارٹی ہمیشہ اس پر لگاتی ہے کہ وہ مسلمانوں کی حامی جماعت ہے ، بہت کم مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دئے ۔ ۲۰۰۹ میں بھارتیا جنتا پارٹی نے لوک سبھا کے انتخابات میں ۴۲۸ امیدواروں میں صرف سات امیدوار کھڑے کئے تھے جن میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا۔ اتر پردیش میں جہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد آباد ہے ۲۰۱۴ کے عام انتخابات میں اترپردیش سے لوک سبھا میں ۸۰ اراکین میں صرف ایک مسلمان منتخب ہوا تھا۔ یہ سخت اچھنبے کی بات تھی اور اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ کہ گذشتہ پانچ برس کے دوران کسی نے اتر پردیش سے مسلمانوں کی نمایندگی یوں مٹ جانے کے اسباب پر غور نہیں کیا ، نہ مسلم رہنماوں نے اور نہ ملک کے سنجیدہ عناصر نے بحث کی۔ نتیجہ یہ رہا کہ اتر پردیش اسمبلی کے ۲۰۱۷ کے انتخابات میں مسلمانوں کی نمایندگی یکسر ختم ہوگئی اور مسلمانوں کی آوزاز اٹھانے والا کوئی نہ رہا۔ خود نریندر مودی کی ریاست گجرات میں جہاں مسلمانوں کی آبادی ساڑھے نو فی صد ہے۔پچھلے چالیس سال سے کوئی مسلمان لوک سبھا کا رکن منتخب نہیں ہو سکا ہے۔ آخری بار گجرات سے دو مسلمان اراکین ۱۹۷۷ میں لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے تھے ایک احمد پٹیل تھے اور دوسرے احسان جعفری تھے جنہیں ۲۰۰۲ کے گلبرگ گجرات میں خونریز مسلم کُش فسادات میں بہیمانہ طور پر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے جب بلوائیوں نے ان کے گھر پر حملہ کیا تو انہوں نے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو مدد کے لئے ٹیلیفون کیا تھا لیکن مودی نے ٹیلیفون سننے سے انکار کر دیا۔ بلوائیوں نے احسان جعفری کو ان کی اہلیہ زکیہ جعفری اور ان سینکڑوں مسلمانوں کے سامنے جنہوں نے احسان جعفری کے مکان میں پناہ لی تھی ، ہلاک کر کے ان کی لاش کے ٹکرے ٹکر ے کردئے اور نذر آتش کر دیا ۔ احسان جعفری کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے ۔ احمد پٹیل بھی کانگریس کے امیدوار تھے۔ پاکستان کے خلاف نام نہاد سرجیکل اسٹرایک ، پلواما کے خود کش حملہ اور پاکستان میں بالا کوٹ پر ہندوستان کے فضائی حملہ کے دعوی کے بعد خوف کی ایسی فضا پیدا ہوگئی کہ جو بھی مودی کی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اسے پاکستان کا ایجنٹ قرار دے کر اور ملک دشمنی کا الزام لگا کر اس کی آواز دبا دی جاتی ہے۔ دوسری جانب اس حکمت عملی کا مقصد ہندوں کو ڈرانا ہے کہ مسلمان ، ملک کو ٹکرے ٹکرے کرنے والی قوم ہے جسے انتخابات میں شکست دینی لازمی ہے۔ آج ہندوستان میں ہندوتا کی جو زہریلی فضا ہے اس میں یہ توقع کرنا کہ مسلمان اگلے عام انتخابات میں پارلیمنٹ میں خاطر خواہ نمایندگی حاصل کر پائیں گے ،شاخ زعفران گننے کے مترادف ہوگا، خاص طور پر جب کہ رائے دہندوں کی فہرست سے تین کڑوڑ سے زیادہ مسلمانوں کے نام غایب کر دئے گئے ہیں ۔