مقبول خبریں
روٹری کلب کے راہنما ڈاکٹر سہیل قریشی کے اعزاز میں سماجی کمیونٹی شخصیت چوہدری محمود کا استقبالیہ
پاکستان سے آئے وکلا کے اعزاز میں ورلڈ وائیڈ سالیسٹرز کے ڈائیریکٹر محمد اشفاق کا استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
سابق صدر پی ٹی آئی یارکشائر اینڈ ہمبر ریجن طاہر ایوب خواجہ کا اپنی رہائش گاہ پر محفل کا انعقاد
بے نظیر بھٹو: چراغ بجھ گیا لیکن روشنی زندہ ہے
پکچرگیلری
Advertisement
سلام پاکستان فلم فیسٹیول کا اختتام ، عدالت علی کی پہاڑی زبان میں لکھی فیچر فلم لکیر پیش کی گئی
اولڈہم (محمد فیاض بشیر)برطانیہ میں پہلے سلام پاکستان فلم فیسٹیول کے اختتام پر اولڈہم کے مقامی سینما گھر میں عدالت علی کی پہاڑی زبان میں لکھی فیچر فلم لکیر نمائش کے لیے پیش کی اور ساتھ میں انور شاد کے گانا مائے نی بھی دکھایا گیا ۔ فلم لکیر کی کہانی تقسیم پاک وہند سے پہلے کشمیری قوم کسطرح اتحاد و اتفاق سے اکٹھی رہتی تھی پھر تقسیم کے بعد آر پار کے کشمیری خونی لیکر کی وجہ سے جب جدا ہوئے تو بچھڑے خاندانوں کو آپس میں ملنا کتنا مشکل ہوا اور یہ سب کچھ کشمیر کے مسئلہ کو حل نہ کرنے کا شاخسانہ ہے۔ لیکر فلم کے رائٹر کونسلر عدالت علی کا کہنا تھا کہ انہوں نے فلم کافی عرصہ پہلے لکھی بزرگوں سے بہت ساری کہانیاں سننے کو ملیں لائن آف کنٹرول پر فائرنگ، مہاجرین اور ایسے لوگوں کو دیکھ کر جوان ہوا جو 1930 اور 1940 کی دہائی میں خوش وخرم اکٹھے رہتے تھے پھر تقسیم پاک وہند کی وجہ سے خاندان کے افراد ایک دوسرے سے بچھڑ گئے اور یہ سلسلہ 1965 اور 1971 کے بعد سے بھی جاری ہے۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ انہوں نے فلم پہاڑی زبان میں لکھی لیکن سب ٹائٹلز انگریزی زبان میں ہیں ضروری ہے نوجوان نسل کو اپنے بزرگوں بارے آگاہی دی جائے۔ سلام پاکستان فلم فیسٹیول کے مینجر عزیز زہریا کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں پہلی دفعہ پاکستان فلم فیسٹیول کا انعقاد ہوا ہے یہ ایک کوشش تھی کہ پاکستانی فلموں کی نمائش کی جائے اور ساتھ مختصر دورانیہ کی مقامی پروڈیوسر کی فلمیں بھی دکھائی جائیں جیسا کہ آج انور شاد کے مشہور گانا رخصتی پیش کیا گیا۔ فلم لکیر کو دیکھتے کے لیے کشمیری کمیونٹی بڑی تعداد میں آئ ہم اس فیسٹیول کا انعقاد ہو سال کریں گے کوشش ہو گی کہ آئندہ اس سے بھی کامیاب ہو۔ راچڈیل کے مئیر کونسلر محمد زمان کا کہنا تھا کہ فلم کی کہانی آر پار کے کشمیری کو تقسیم کرنے والی لکیر بارے ہے ہم کو اسے مٹا کر ایک ساتھ اکٹھے رہنا ہے اس فلم میں مذہب، ثقافت، تہذیب اور زبان کو عیاں کیا گیا ۔کونسلر عتیق الرحمان کا کہنا تھا کہ فلم لکیر اچھی کاوش تھی اس میں تاریخ کے ایسے زاویوں سے آگاہی ہوئ جو پہلے پوشیدہ تھے ۔ اولڈہم کونسل کے مئیر کونسلر جاوید اقبال نے کہا کہ حقائق پر مبنی کہانی سے فرط جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ہمیں رلا دیا ہمیں ممبران برطانوی و یورپین پارلیمنٹ سے مل کر کشمیر کے مسئلہ کو حل کروانے اور آر پار کے کشمیریوں کے درمیان لکیر کو مٹانا ہو گا۔ اس موقع پر جاوید اختر، ممتاز کشمیری دانشور شمس الرحمٰن، چوہدری محمد شبیر بہملوی اور دیگر نے بھی فلم لکیر کو تاریخ کا اثاثہ قرار دیا۔ فلم لکیر کو دیکھنے کشمیری خواتین کی بڑی تعداد نے سینیما کا رخ کیا جو کہ قابل فخر و ستائش بات تھی اس سے خواتین کا معاشرے میں کردار اور تاریخ سے آگاہ ہونا ثابت ہے۔