مقبول خبریں
مقبوضہ کشمیر کےعوام کو بھارتی چنگل سےنجات دلانے کیلئے برطانوی حکومت کردار ادا کرے:راجہ نجابت
ڈیبی ابراھم کی قیادت میں ممبران پارلیمنٹ اور کمیونٹی رہنماؤں کی لارڈ طارق احمد سے ملاقات
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کی وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر سے ملاقات
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
راجہ نجابت حسین کا مسئلہ کشمیر پر بحث میں حصہ لینے پر ارکان یورپی پارلیمنٹ کو خراج تحسین
جب ریت پہ لکھو گے محبت کی کہانی!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سلام پاکستان فلم فیسٹیول کا اختتام ، عدالت علی کی پہاڑی زبان میں لکھی فیچر فلم لکیر پیش کی گئی
اولڈہم (محمد فیاض بشیر)برطانیہ میں پہلے سلام پاکستان فلم فیسٹیول کے اختتام پر اولڈہم کے مقامی سینما گھر میں عدالت علی کی پہاڑی زبان میں لکھی فیچر فلم لکیر نمائش کے لیے پیش کی اور ساتھ میں انور شاد کے گانا مائے نی بھی دکھایا گیا ۔ فلم لکیر کی کہانی تقسیم پاک وہند سے پہلے کشمیری قوم کسطرح اتحاد و اتفاق سے اکٹھی رہتی تھی پھر تقسیم کے بعد آر پار کے کشمیری خونی لیکر کی وجہ سے جب جدا ہوئے تو بچھڑے خاندانوں کو آپس میں ملنا کتنا مشکل ہوا اور یہ سب کچھ کشمیر کے مسئلہ کو حل نہ کرنے کا شاخسانہ ہے۔ لیکر فلم کے رائٹر کونسلر عدالت علی کا کہنا تھا کہ انہوں نے فلم کافی عرصہ پہلے لکھی بزرگوں سے بہت ساری کہانیاں سننے کو ملیں لائن آف کنٹرول پر فائرنگ، مہاجرین اور ایسے لوگوں کو دیکھ کر جوان ہوا جو 1930 اور 1940 کی دہائی میں خوش وخرم اکٹھے رہتے تھے پھر تقسیم پاک وہند کی وجہ سے خاندان کے افراد ایک دوسرے سے بچھڑ گئے اور یہ سلسلہ 1965 اور 1971 کے بعد سے بھی جاری ہے۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ انہوں نے فلم پہاڑی زبان میں لکھی لیکن سب ٹائٹلز انگریزی زبان میں ہیں ضروری ہے نوجوان نسل کو اپنے بزرگوں بارے آگاہی دی جائے۔ سلام پاکستان فلم فیسٹیول کے مینجر عزیز زہریا کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں پہلی دفعہ پاکستان فلم فیسٹیول کا انعقاد ہوا ہے یہ ایک کوشش تھی کہ پاکستانی فلموں کی نمائش کی جائے اور ساتھ مختصر دورانیہ کی مقامی پروڈیوسر کی فلمیں بھی دکھائی جائیں جیسا کہ آج انور شاد کے مشہور گانا رخصتی پیش کیا گیا۔ فلم لکیر کو دیکھتے کے لیے کشمیری کمیونٹی بڑی تعداد میں آئ ہم اس فیسٹیول کا انعقاد ہو سال کریں گے کوشش ہو گی کہ آئندہ اس سے بھی کامیاب ہو۔ راچڈیل کے مئیر کونسلر محمد زمان کا کہنا تھا کہ فلم کی کہانی آر پار کے کشمیری کو تقسیم کرنے والی لکیر بارے ہے ہم کو اسے مٹا کر ایک ساتھ اکٹھے رہنا ہے اس فلم میں مذہب، ثقافت، تہذیب اور زبان کو عیاں کیا گیا ۔کونسلر عتیق الرحمان کا کہنا تھا کہ فلم لکیر اچھی کاوش تھی اس میں تاریخ کے ایسے زاویوں سے آگاہی ہوئ جو پہلے پوشیدہ تھے ۔ اولڈہم کونسل کے مئیر کونسلر جاوید اقبال نے کہا کہ حقائق پر مبنی کہانی سے فرط جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ہمیں رلا دیا ہمیں ممبران برطانوی و یورپین پارلیمنٹ سے مل کر کشمیر کے مسئلہ کو حل کروانے اور آر پار کے کشمیریوں کے درمیان لکیر کو مٹانا ہو گا۔ اس موقع پر جاوید اختر، ممتاز کشمیری دانشور شمس الرحمٰن، چوہدری محمد شبیر بہملوی اور دیگر نے بھی فلم لکیر کو تاریخ کا اثاثہ قرار دیا۔ فلم لکیر کو دیکھنے کشمیری خواتین کی بڑی تعداد نے سینیما کا رخ کیا جو کہ قابل فخر و ستائش بات تھی اس سے خواتین کا معاشرے میں کردار اور تاریخ سے آگاہ ہونا ثابت ہے۔