مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اٹارنی جنرل ڈومینک گریو کا بیان اور ہمارا کردار .. !!
برٹش اٹارنی جنرل ڈومینک گریو نے ڈیلی ٹیلیگراف کو اپنے ایک انٹرویو میں دیگر کمیونٹیز کے ساتھ اینگلو سیکسن کمیونٹی اور پاکستانی کمیونٹی کے متعلق خصوصاًکرپٹ ہونے کی بات کی۔ 23 نومبر ہفتہ کے روز یہ انٹرویو خبر کی صورت میں اشاعت میں شامل ہوا اس صبح سجاد کریم فجر کی نماز کے لئے بیدار تھے پونے سات بجے کے قریب بی بی سی نے ان کا موقف جاننے کے لئے فون کیا سجاد کریم نے اس وقت اخبارات کا مطالعہ نہیں کیا تھا انہوں نے ایک گھنٹہ بعد انٹرویو کی حامی بھر لی استفسارپر بتایا بھی گیا کس کس سیاستدان سے میڈیا نے اس حوالے سے رابطہ کیا ہے اس کے بعداپنا ہوم ورک مکمل کرکے بی بی سی ریڈیو فور کو اپنے موقف سے آگاہ کر دیا اس کے بعدبی بی سی چینل نے انٹرویو کیا، بعد دوپہر ایک بجے سکائی نیوز نے انٹرویو لائیو نشر کیا، آئی ٹی وی ، چینل فور ، سی این این اور دیگر چند یورپین چینل نے سجاد کریم کا موقف نشر کیا کنزرویٹو پارٹی کے چئیر مین اور یورپین پارلیمنٹ میں یورپین کنزرویٹو ز کے چئیرمین کو نا معلوم ای میلز جانی شروع ہو گئیں کہ سجاد کریم کو پارٹی سے نکالاجائے کیونکہ انہوں نے پارٹی کے سینئر ترین عہدے پر فائز اہم شخصیت اور زیرک سیاست دان کو چیلنج کیا ہے، پارٹی چئیر کے دفتر سے پریس آفیسر نے سجاد کریم کو وضاحتیں دیں کہ معاملہ اس طرح نہیں تھامگر سجاد کریم کا موقف وہی تھا کہ جو میڈیا میں آچکا اب میں اسی کو سچ مانتا ہوں، میں برٹش پاکستانی ہوں مجموعی طور پرپاکستانی کمیونٹی کی جانب اٹارنی جنرل کا انگلی اٹھانا قابل قبول نہیں کیونکہ ہر کمیونٹی میں افراد اور سیاسی پارٹیوں میں ایکٹیوسٹ ہوتے ہیں جو کرپٹ ہو سکتے ہیں جنہیں انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے اس لئے سب کو ایک ہی چھڑی سے ہانکنا درست نہیں۔سارا دن سجاد کریم اس حوالے سے برطانوی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز رہے۔ اس وقت تک ڈومینک گریو"سیاسی" غلطی کو تسلیم کرنے پر شاید تیار نہیں تھے۔ اور میں نے اس طرح نہیں کہا، وغیرہ کا راگ الاپتے رہے ۔شام چھ بجے ریڈیو فور نے سجاد کریم کو پھر سٹوڈیو میں انٹرویو کیا، ممبر یورپی پارلیمنٹ نے حسب عادت اپنے موقف کو انتہائی جاندارانہ انداز میں پیش کیا اسی اثناء میں سجاد کریم کو مطلع کیا گیا کہ پارٹی چیئر مین نے ڈومینک گریو کو اپنے اس بیان پر پاکستانی کمیونٹی سے معذرت کرنے کا مشورہ دیا ہے، پونے سات بجے برطانوی اٹارنی جنرل ڈومینک گریو نے پاکستان کمیونٹی سے نہ صرف صاف الفاظ میں معافی مانگ لی بلکہ اپنی غلطی بھی تسلیم کر لی۔ اس دن سارا دن یہ معاملہ برطانوی ذرائع ابلاغ میں چلتا رہا جب ڈومینک گریو نے معافی مانگ لی اس کے بعد شیڈو اٹارنی جنرل لیبر پارٹی کی ممبر پارلیمنٹ ایملی تھورن بری کا بیان آیا، تمام سیاسی پارٹیوں اور لیبر پارٹی نے خصوصاً دن بھر خاموشی اختیار کر کے ’خاموشی نیم رضا مندی‘ کے مصداق ڈومینک کے بیان کو قبول کر لیا تھا۔البتہ لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی اور چند صحافی، پاکستانیوں کا موقف جمع کرکے ڈومینک گریو کی معذرت آنے سے پہلے پہلے ہمارے اردو اخباروں میں مذمتی بیانات چھاپ چکے تھے۔ (کشمیر لنک لندن 24 نومبر 2013) (Ref: http://kashmirlinklondon.com/?p=740) سوموار 25 نومبر کے دن بھی اکثر بیانات میں اٹارنی جنرل سے معافی طلب کی گئی سرکار سمیت چند ایک نے معافی کے ساتھ استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا تھا معافی مانگنے کی انہیں خبر نہ ہوئی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ڈومینک گریو کے بیان کو لیبر پارٹی نے الیکشن ایشو بنا لیا حتیٰ کہ بزعم خود لیبر پارٹی کے ایک بڑے ایشیائی رہنما نے اس بیان کو آنے والے دنوں میں مسجدوں پر پاکستانیوں پرحملوں کا سبب کہہ ڈالا اور نفرت پھیلانے کی کوشش کی، صحافی بد دیانتی اور دروغ گوئی کی اس سے بڑی مثال کیا ہو سکتی ہے کہ پینڈل سے ایک مذمتی اور استعفیٰ کے مطالبے کے ساتھ پریس ریلیز روزنامہ جنگ کے علاوہ دوسرے اردو اخباروں میں بھی چھپا ہے جو دوپینڈل اور ایک ہا ئنڈ برن کے کونسلر کے ناموں سے منسوب ہے دروغ گوئی کی حد کہ ایک اجلاس ٹاوٴن ہال میں ہوا جبکہ اتوار کے دن کتنے ٹاوٴن ہال کھلتے ہیں ؟ اور وہ بھی تین کونسلروں کو پاکستان کے ایشو پر ’اجلاس‘ کرنے کے لئے؟ خیر اجلاس نہ بھی ہو احتجاج کرنا انفرادی طور پر کرنا بھی خلاف قانون یا اخلاقی نہیں ہے، پھر اپنے موقف کو مضبوط بنانے کے لئے ’ٹاوٴن ہال ‘ اور ’کونسلرز‘ کے لاحقے لگانے کا کیا جواز ہے؟ اور سجاد کریم پر بھی بلا جواز و غیر ضروری جملے کسے بغیر نہیں رہے۔ یہ سجاد کریم ہی کی جرأت ہے کہ اپنی پارٹی کے اندر ایک بڑے عہدے دار کو چیلنج کر کے کامیاب ہو گئے(لیبر پارٹی میں چیلنج کرنے والوں کا انجام سب جانتے ہیں) ان کے ساتھیوں نے اور پاکستان سے محبت کرنے والوں نے ڈاؤننگ سٹریٹ ، پارٹی چیئرمین کی ای میلز کو اس قدر اوور لوڈ کر دیا جس کا دباوٴ وہ بر داشت نہیں کر سکے اور 12 گھنٹوں کے اندر اٹارنی جنرل کو گھٹنے ٹیکنے پڑے کیونکہ یہ سیاسی نہیں اخلاقی بات تھی ۔ ممبر یورپی پارلیمنٹ سجاد کریم وہ شخص ہیں جو اخباروں کو بیانات اور فوٹو جاری نہیں کرتے، ان کی اپنے دفتر اور ساتھیوں کو سختی سے ہدایت ہے کہ جو میرا عمل یا بیان نہ ہو وہ مجھ سے کبھی وابستہ نہ کیا جائے۔ میں اپنے اس صحافی دوست اور پریس ریلیز جاری کرنے والوں سے درخواست کروں گاکہ اپنے دو ممبرز پارلیمنٹ جن میں ایک ان کا اپنا ایکرنگٹن سے ہے، استعفیٰ طلب کریں، جس نے کہا ہے کہ پاکستانی پاکستان سے یہ کرپشن لاتے ہیں پاکستان ایک کرپٹ ملک ہے وغیرہ وغیرہ۔ معاملہ یہ نہیں کہ اب سیاسی طور اپنی دکان چمکانے لگ پڑیں بلکہ پاکستان و مسلمان دشمن لابی سے ہمیں ہوشیارر ہنا ہو گا ایک کمیونٹی کی بقا کا مسئلہ جان کر بڑی سوچ سمجھ اور اتفاق و اتحاد سے آگے بڑھنا ہے اور سچ کو قبول کرلینے کی ہمت و اخلاقی جرأ ت ہمیں اپنے اندر پیدا کرکے الزامات سے اپنی بساط کے مطابق بچنا اور اپنی اصلاح کرنی ہے یاد رہے چھ سات ماہ بعد الیکشنز ہو رہے ہیں اور یہ بڑے بڑے بیانات داغنے والے ہی کمیونٹی کو بد نام کرتے ہیں ان کے لئے ہمارے چند ٹاوٴنز، الیکشن کمیشن اور پولیس کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ (تحریر: عبداللہ زید ، نیلسن)