مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان کے نئے آرمی چیف کے تقررمیں کس کی مرضی کس کی منشا، نواز شریف یا کیانی؟
اسلام آباد ... افواج پاکستان کے سینئر موسٹ آفیسران کے علاوہ شائد چند ہی لوگوں کے علم میں یہ بات ہو گی کہ رخصت ہونے والے پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی، انکی جگہ نئے تعینات ہونے والے آرمی چیف جنرل راحیل اشرف اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین پرمشتمل ٹرائکا میں دوستی کا رشتہ بھی موجود ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور میں ہی دونوں افسران انتہائی اہم اور قابل اعتماد عہدوں پر فائز رہے۔ 28 نومبر2013 کا دن تینوں دوستوں کی زندگی کا ایک یادگار دن ہوگا جب تینوں پاکستان آرمی کے جنرلز کے عہدے پر فائز ہوں گے، گو ایسا چند گھنٹوں کیلئے ہوگا لیکن یہ وقت تینوں دوستوں کی زندگی کا یادگار اور تاریخ ساز دن ہوگا۔جنرل راحیل چیف آف آرمی سٹاف بننے سے قبل انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ اویلوئیشن کے عہدے پر فائز تھے۔ اس کے علاوہ وہ کور کمانڈر گوجرانوالہ اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے کمانڈنٹ کے عہدوں پر بھی کام کر چکے ہیں۔ 1956 میں کوئٹہ میں پیدا ہونے والے جنرل راحیل شریف نے 1976 میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا تھا اور وہ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں نشانِ حیدر پانے والے میجر شبیر شریف کے چھوٹے بھائی ہیں۔ جبکہ انکے والد بھی فوج میں میجر کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر فائز ہونے والے جنرل راشد محمود اس سے قبل چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر فائز تھے اور وہ کور کمانڈر لاہور بھی رہ چکے ہیں۔ ان دونوں سے سینئر لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم کو میڈیا کے ذریعے چلائی گئی ایک مخصوص مہم میں متوقع نیا آرمی چیف ظاہر کیا جاتا رہا ہے جبکہ منتخب جمہوری حکومت کے چیف یعنی وزیر اعظم کو آئین پاکستان کے تحت یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ سینئر ترین آفیسرز میں سے کسی ایک کو صدر پاکستان کی رسمی منظوری سے افواج پاکستان کا سربراہ مقرر کر سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی ایسا کیا گیا ہے لیکن پاکستان کا منفی سوچ والا میڈیا اور پاکستان بارے میلی آنکھ رکھنے والا میڈیا یہ تاثر دینے کی کوشش میں مصروف ہیں کہ وزیر اعظم پاکستان نے یس اہم تقرری میں من مانی کی ہے جبکہ حقیقت میں اس فیصلے سے سبکدوش ہونے والے آرمی چیف زیادہ خوش اور مطمئن ہیں۔ 27 نومبر کو وزیراعظم کی بھیجی گئی سمری پر صدر مملکت ممنون حسین نے دستخط کرکے ان فیصلوں کی توثیق کی ، دونوں لیفٹیننٹ جنرلز کو28نومبر کی تاریخ سےجنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے اسطرح لیفٹیننٹ جنرل راحیل شریف 29نومبر کو جنرل کیانی کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی بطور جنرل آرمی چیف کا عہدہ سنبھال لیں گے۔ وہ پاکستان کے بری فوج کے 15ویں سربراہ ہوں گے۔