مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سکاٹ لینڈ کی آزادی و خودمختاری مقامی لوگوں کے ہاتھ میں، فرسٹ منسٹر نے وائٹ پیپر جاری کردیا
انڈنبرا ... سکاٹش نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر ایلکس سامنڈ نے برطانیہ سے علیحدگی کا منصوبہ عوامی عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب سکاٹ لینڈ کا مستقبل سکاٹ لینڈ کے باسیوں کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ 649 صفحات پر مبنی وائٹ پیر میں آزاد سکاٹ کا اپنا تصور پیش کیا گیا ہے اسکے ساتھ ساتھ یہ وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ آزادی کے حق میں فیصلہ دینے کی صورت میں ملک میں سماجی انقلاب برپا ہو جائے گا۔ ساڑھے چھ سو سوالوں پر مشتمل یہ منصوبہ تقریبا دس ماہ تک عوامی دسترس میں ہوگا، ستمبر میں عوامی رائے کی ہی روشنی میں سکاٹ لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا یہ برطانیہ کا حصہ رہے یا آزاد ملک بن جائے۔سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر ایلکس سامنڈ کی جماعت سکاٹش نیشنل پارٹی آزاد سکاٹ لینڈ کی حامی ہے۔ میڈیا کے سامنے وائٹ پیپر کا اجرا کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ یہ دستاویز نہ صرف سکاٹ لینڈ بلکہ آزادی چاہنے والے کسی بھی ملک کے لیے ایک جامع دستاویز ہے۔ انھوں نے کہا کہ سکاٹ لینڈ آزاد دنیا کا رکن بننا چاہتا ہے اور سکاٹ لینڈ کو آزاد ملک بنوانے کا مقصد اسے پہلے سے بہتر بنانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں معاشی ناہمواری انتہائی بلندیوں تک پہنچ چکی ہے۔ ایلکس سامنڈ نے وعدہ کیا کہ آزاد سکاٹ لینڈ میں چار سال کی عمر تک بچوں کی نہگداشت کےلیے ہفتے میں تیس گھنٹوں کی چائلڈ کیئر کی سہولت مہیا کی جائے گی۔ کرنسی پائونڈ سٹرلنگ ہی رہے گی اور کم از کم عوامی اجرت کا فیصلہ شرح نمو کے مطابق کیا جائے گا۔ ایلکس سامنڈ کے مخالف برطانیہ کو متحد رکھنے کی مہم ’بیٹر ٹوگیتھر‘ کے سربراہ اور سابق وزیر خزانہ ایلسٹر ڈارلنگ کا کہنا تھاکہ وائٹ پیپر افسانوی اور بے معنی مفروضوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا پیش کیے جانے والے وائٹ پیپر میں بہت سے سوالوں کے جواب نہیں ملتے مثال کے طور پر نئے ملک کی کرنسی کونسی سے ہو گی، ہمارے قرضوں کے ریٹ کون متعین کرے گا، ہمارے ٹیکس کتنے بڑھیں گے، ہم اپنی پنشن کیسے ادا کریں گے۔ ایلسٹر ڈارلنگ نے کہا کہ یہ بات غیر حقیقی ہے کہ سکاٹ لینڈ برطانیہ کو چھوڑ کر آزاد ملک بن جائے لیکن برطانیہ کا ممبر ہونے کے فوائد بھی لیتا رہے۔یہ بات حقیقی نہیں افسانوی ہے۔