مقبول خبریں
حاجی محمد شبیر کی رہائش گاہ پر روحانی محفل کا انعقاد، پیر ابو احمدمقصود مدنی کی خصوصی شرکت
بھارتی ہائی کمیشن کے باہر کشمیریوں کا احتجاجی مظاہرہ،لندن کی فضا آزادی کے نعروں سے گونج اٹھی
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس برطانیہ کے صدر راجہ اسحاق کالندن مظاہرے میں شرکت کا اعلان
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
پھر ہم نے وہ چراغ ہوا کو تھما دیا!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پھر ہم نے وہ چراغ ہوا کو تھما دیا!!!!!
اس سال فروری کی 24تاریخ کو کراچی میں معروف شاعرجناب کیفی اعظمی مرحوم کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک انٹرنیشنل کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا، نامور بھارتی اداکارہشبانہ اعظمی معروف شاعر کیفی اعظمی کی صاحب زادی ہیں، انہوںنے منتظمین سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے شوہر نامدار جناب جاوید اختر کے ہمراہ اس کانفرنس میں ضرور شرکت کریں گی لیکن گذشتہ دنوں دنیا بھر میں دیکھے جانے والے پلوامہ ڈرامے کے بعد شبانہ اور ان کے شوہر جاوید اختر نے کانفرنس میں شرکت کے لیے کراچی آنے سے معذرت کر لی۔اداکارہ نے کانفرنس کے منتظمین کے نام اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ان پر موجودہ حالات میں ہندو انتہا پسندوں کا پاکستان نہ جانے کے لیے اتنا دبائو ہے کہ جسے وہ بیان نہیں کر سکتیں۔یاد رہے کہ اداکارہ شبانہ اعظمی اور ان کے شوہر معروف شاعر جاوید اختر صرف بھارت ہی نہیں پاکستان مین بھی لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے ہیں۔اگرچہ شبانہ اعظمی پر چند ایک فلموں میں کچھ قابل اعتراض قسم کے بولڈ مناظر بھی فلمائے گئے جس سے ان کے پرستاروں کو کچھ نہ کچھ دکھ ضرور ہوا لیکن شبانہ نے اس اعتراض کا ہمیشہ یہی جواب دیا کہ میں نے جو کچھ کیا وہ کہانی کی ڈیمانڈ کے مطابق تھا۔ یہ دونوںفنکار بارہا پاکستان آچکے ہیں اور ان کے پاکستان آنے پر لوگوں نے ہمیشہ ان کا نہایت کھلے دل کے ساتھ استقبال کیا ہے۔ مذکورہ تقریب میں ان کی عدم شرکت نے بہت سے پاکستانیوں کو رنجیدہ کر دیا۔ مسلمان فنکاروں کو بھارت کی طرف سے اس طرح کے سیاسی معاملوں میں گھسیٹنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ، راحت علی خان سے لے کر سلمان خان تک، تقریبا تمام کے تمام بھارتی اور پاکستانی فنکاروں کو اس طرح کے معاملات میں تعصب کا نشانہ بنانا وہاں کی روایت کا حصہ ہے۔ ابھی کچھ عرصہ قبل شبانہ اعظمی کے حوالے سے ہی ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر نہایت وائرل ہوا جس میں شبانہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بہ بانگ دہل کہا کہ میں نے جب ممبئی میں ایک فلیٹ خریدنے کی کوشش کی تو مجھے شدید مایوسی اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ممبئی شہر میں کوئی بھی کسی مسلمان کو جائیداد بیچنے کو تیار نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سلوک مجھ جیسی معروف اور جانی پہچانی اداکارہ کے ساتھ ہوا، میں سوچتی ہوں وہاں عام مسلمان کے ساتھ کس قدر خوفناک سلوک ہوتا ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں نہ تو متعصب لوگوں کی اکثریت ہے نہ ہی مذہبی جنونیوں کی لیکن جو مٹھی بھر انتہا پسند موجود ہیں وہ اس لیے طاقت ور ہیں کہ انہیں مودی سرکار کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ ابھی چند روز پہلے جئے پور کی سنٹرل جیل میں بھی ہندو انتہا پسندی کا ایک ایسا ہی واقعہ دیکھنے میں آیا جب وہاں قید ایک پاکستانی شاکر اللہ کو جیل میں بند ہندو قیدیوں نے پتھر مار مار کر ہلاک کردیا۔شاکر کے قاتلوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے شاکراللہ کو مار کر پلوامہ میں ہلاک ہونے والے چالیس بھارتی فوجیوں کا بدلہ لے لیا ہے۔ شاکراللہ کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ ظلم لاقانونیت اور نا انصافی کی بدترین مثال ہے لیکن اس سب کے نتیجے میں کم از کم ایک بات کا تو انکشاف ہوا کہ ایک عام پاکستانی بھی چالیس بھارتی فوجیوں کے برابر ہوتا ہے۔بھارت کی جیلوں میں پاکستانیوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات کا ہونا کوئی نئی بات نہیں، مئی 2013میں بھی کشمیر کی ایک جیل میں ایک پاکستانی قیدی کو اسی طرح موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا ۔ لیکن بھارتی قیدیوں کے ساتھ پاکستانی قیدیوں کا سلوک ہمیشہ بالکل ہی مختلف نوعیت کا ہوتا ہے۔ سزا کی مدت مکمل ہونے کے بعد جو بھی بھارتی قیدی رہا ہوتا ہے، جیل میں موجود دیگر قیدی اسے پھولوں کے ہار پہنا کر رخصت کرتے ہیں، جیل انتظامیہ کی طرف سے تحائف دیے جاتے ہیں اور پھر واہگہ بارڈر پر اسے بھارت کے حوالے کرتے ہوئے حکومت پاکستان کی طرف سے بھی مٹھائی اور پھولوں کے ساتھ رخصت کیا جاتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی صورت جتنی مودی صاحب کے زمانہ اقتدار میں خراب ہوئی ہے، پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ بی جے پی حکومت نہ جانے کیوں اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ اس کی ساری مقبولیت کا دارومدار پاکستان دشمنی کو ہوا دینے میں ہے۔ مودی صاحب خود کو یہ بات بھی سمجھا چکے ہیں کہ آئیندہ الیکشن جیتنے کے لیے اگر کوئی چیز ان کے کام آئی تو وہ صرف اور صرف پاکستان دشمنی ہے۔ پاکستان کے خلاف جتنی نفرت بھڑکے گی، اتنی ہی شاندار فتح ملے گی۔اپریل مئی 2019میں متوقع جنرل الیکشنز میں یوں تو مودی سرکار کا حال کچھ زیادہ ہی پتلا دکھائی دیتا ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ہندو انتہا پسندوں کے لیے مودی سرکار کی کامیابی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، چنانچہ اس مسئلے کو کسی من چاہی صورت حال تک پہنچانے کے لیے پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کے ہر ممکن حربے کو اختیار کیا جائے گا ،چاہے ایسا کرنے کے لیے مودی سرکار کو اپنے فوجیوں کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑ جائے۔ پلوامہ میں ہونے والا حالیہ خودکش دھماکہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پلوامہ حملے کے حوالے سے ایک قابل توجہ بات یہ بھی ہے کہ جس فوجی قافلے پر یہ خود کش حملہ کیا گیا تھا وہ قافلہ اس مقام پر لینڈ سلائیڈنگ اور برفباری کے باعث کافی دنوں سے پھنسا ہوا تھا۔مذکورہ علاقے میں اس متاثرہ قافلے کی موجودگی کا کسی عام آدمی کو علم تک نہیں تھا۔ اس فوجی قافلے کے برف باری میں پھنس جانے کے بعد سیکیورٹی خطرات کے پیش نظرجگہ جگہ ناکے بھی لگا دیے گئے تھے، آس پاس کے پہاڑوں پر نہایت مشاق قسم کے نشانہ باز بھی تعینات کر دیے گئے، ایسے میں مبینہ طور پر پاکستان سے بھیجا ہوا بارودی مواد سے لبریز کوئی ٹرک اس قافلے تک پہنچ بھی جائے اور پھٹ بھی جائے اور چالیس پینتالیس فوجیوں کی جان بھی لے جائے، عقل نہیں مانتی۔فی الحال مودی صاحب کی سرپرستی میں پاکستان کے خلاف ڈھول پیٹنے کا جو کام جاری ہے، اسے جاری رہنے دیا جائے تو بہتر ہے، تھوڑے دن انتظار کر لیں، بلی خود تھیلے سے باہر آجائے گی۔آپ کو یاد ہوگا چند ماہ قبل ایک بھارتی فوجیوں کو ملنے والی روزمرہ خوراک کی حالت زار کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا کے ذریعے ایک بھارتی فوجی نے دنیا بھر میں پھیلا دی تھی۔مذکورہ ویڈیو مشرق سے لے کر مغرب تک بھارت کی جگ ہنسائی کا باعث بنی۔ بھارت میں’ہارڈ ایریا پوسٹنگ‘ پر جانے والے فوجیوں کی خوراک اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اوپر کے لوگ لاکھوں کروڑوں کا بجٹ منظور کرالیتے ہیں لیکن بے چارے فوجیوں کو ملتا کیا ہے، دال کے نام پر گدلا پانی۔ایک چھوٹے سے ویڈیو کلپ نے سارا بھانڈا پھوڑ دیا۔ایسا ہی سب کچھ پلوامہ حملے کے حوالے سے بھی سامنے آجائے گا۔ظاہر ہے اس طرح کی منصوبہ بندی اعلیٰ ایوانوں میں ہوتی ہے لیکن عمل کرنے والے بحر حال نیچے کے لوگ ہی ہوتے ہیں،کوئی نہ کوئی ایک روز سچ ضرور بول دے گا۔ہمیں سچ کی اسی گھڑی کا انتظار کرنا چاہیے۔ویسے بھی ممبئی حملوں سے لے کر پٹھان کوٹ واقعے تک اور پھر پاکستان میں کلبھوشن کی ’سرکاری ذمے داریوں ‘ کی ادائیگی تک بھارتی سازشوں کے چہرے سے کئی بار نقاب سرک چکی ہے۔بلکہ اب تو عالمی عدالت انصاف کے ایوانوں میں بھی مودی سرکار کی منافقت کے چرچے گونج رہے ہیں۔دنیا جان گئی ہے کہ مودی سرکار اس طرح کے جعلی ڈرامے پیش کرنے میں ایک خاص مہارت رکھتی ہے۔ پلوامہ میں مارے جانے والے چالیس بے گناہ بھارتی فوجیوں کی موت کا ہر پاکستانی کو دکھ ہے ، مودی سرکار کو ان کی زندگیوں سے کھلواڑ نہیں کرنا چاہیے تھا ، لیکن اس ’جعلی پولیس مقابلے‘ کا ہم پاکستانیوں کو بحیثیت قوم بحرحال ایک فائدہ ہوا ہے،ہمارے وزیر اعظم جناب عمران خان نے اورہمارے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے ساری قوم کو اپنے ردعمل سے ایک نیا حوصلہ اور ایک نئی ہمت دے دی اور دنیا کو بھی باور کرادیا کہ ہمیں نوالہ تر سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے، اگر مودی سرکار نے الیکشن میں اپنے نمبر بنانے کی غرض سے پلوامہ واقعے کو بنیاد بنا کرپاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کا جنگی ماحول بنانے کی کوشش کی تو نتیجہ اچھا نہیں ہوگا، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے بلکہ کئی گنا زیادہ قوت سے جواب دیں گے۔مودی صاحب ہماری تعداد پر نہ جائیں،ہم جیسے محض چند ستاروں کے چمکنے سے رات کی سیاہی ماند پڑ جاتی ہے۔ ہم تو وہ چراغ ہیں جسے ہوا خود اپنے حصار میں لیے پھرتی ہے۔