مقبول خبریں
نائجیریا کمیونٹی ایسوسی ایشن کا میئر چیئرٹی فنڈریزنگ ڈنر کا اہتمام ،مئیر کونسلر محمد زمان کی خصوصی شرکت
بریگزیٹ بحران :کنزرویٹو پارٹی کی تین خواتین ممبر کی آزاد گروپ میں شمولیت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ضروری اعلان: قانون اور انصاف تلاش گمشدہ
سنا ہے جنگل کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا یہ خیال تو تھا معروف شاعرہ زہرہ نگاہ کا، مگر انسان وہ معاشرتی حیوان ہے جس کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا شاید اسی بناء پر یہ انسانی معاشرہ جنگل سے بھی بدتر ہوچکا ہے، جہاں انسان کے خون کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وطن عزیز پاکستان میں جہاں سب چلتا ہے کا دور دورہ ہے یہاں قانون اور انصاف عرصہ دراز سے گمشدہ ہیں اور اس متاع کی تلاش ہنوز جاری و ساری ہے۔ محکمہ پولیس کے کاہائے نمایاں سے کماحقہ ہر پاکستانی بخوبی واقف ہے اب یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ بدعنوانی، رشوت ستانی اور جرائم کے فروغ میں محکمہ پولیس اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا مگر متعلقہ محکمے کے افسران وارباب اختیار بسا اوقات چشم پوشی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر نقیب اللہ کے مجرم راؤ انوار جیسے ضمیر فروش قاتلوں کو قرار واقعی سزائیں بر وقت دی جاتیں، تو آئے روز اس قسم کے درد ناک واقعات ہرگز جنم نہیں لیتے، جن ملکوں میں راؤ انوار جیسے قاتلوں کی عزت ہوتی ہے وہاں جنگل کا قانون رائج ہوجاتا ہے۔ سانحہ ساہیوال پر چشم فلک نمناک ہے فضا سوگوار اور قوم غمزدہ۔ یہ سانحہ 19 جنوری ہفتے کی صبح ساہیوال کے علاقے اڈہ قادر آباد پر رونما ہوا تھا کہ جہاں ایک شریف خاندان بورے والا میں اپنے عزیز کی شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے لاہور سے روانہ ہوا کون جانتا تھا کہ خوشیوں کی جانب رواں دواں یہ سفر ساہیوال پہنچ کر سفر آخرت میں تبدیل ہوجائے گا۔ سی ٹی ڈی کی جانب سے مبینہ پولیس مقابلے میں چار نہتے شریف شہریوں کو اندھا دھند فائرنگ کرکے موت کی گھاٹ اُتار دیا جائے گا، آن واحد میں ہنستا بستا گھرانہ ہمیشہ کے لیے ویران ہوجائے گا اس سانحہ میں انسانیت کو پوری طرح کچل دیا گیا، پھر بھی شرم ان کو مگر نہیں آتی کہ وحشیانہ انداز سے فائرنگ کے بعد گاڑی سے سامان کے تھیلے نکالے جن میں کپڑوں کے علاوہ نقدی اور زیور بھی موجود تھے ظلم کی اس المناک داستان کے بعد لوٹ مار۔ کیا یہ سی ٹی ڈی اہلکار کسی بھی طور انسان کہلوانے کے لائق ہیں؟؟ ایک لمحے کے لیے بھی ان کے ہاتھ نہیں کانپے، خوف خدا سے دل نہیں لرزا، معصوم بچوں کو دیکھ ان کا دل نہیں تڑپا۔ ستم بالائے ستم سانحہ ساہیوال کی ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ ایف آئی آر ان اہلکاروں کے خلاف درج کی جاتی جو اس سفاکیت میں ملوث تھے۔ وزیر اعظم عمران خان جنہوں نے پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے خواب دکھایا تھا وہ خواب چکنا چور ہوگیا، محترم عمران خان عمر فاروقؓ کا قول بہت ذکر کرتے ہیں کہ دریائے فرات کے کنارے اگر کوئی کتا بھی مرا تو ذمے دار عمر ہوگا۔ عمران خان صاحب یہ دریائے فرات کے کنارے مرنے والاکتا نہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بسنے والے شریف شہری تھے، جن کا خون پانی کی طرح بہادیا گیا اور اس صدمے کی تاب نہ لاکر ماں بھی تمہاری مدینہ جیسی ریاست سے کوئی گلہ شکوہ کیے بنا خاموشی سے منہ موڑ گئی۔ محکمہ پولیس عوام کے لیے خوف کی علامت بن کر رہ گیا ہے کبھی کسی افتاد کے وقت لوگ سوچتے تھے کہ پولیس کو بلاؤ مگر اب کہتے ہیں کہ پولیس سے بچاؤ، پولیس کے محکمے پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں، پولیس اہلکار بدمست ہاتھی کی طرح معصوم شہریوں پر چڑھ دوڑتے ہیں جسے چاہتے ہیں اپنے اختیارات تلے روندتے چلے جاتے ہیں اور حکومتی اراکین، وزراء، سیاست دان محض مذمت کے بیانات دے کر خانہ پری کردیتے ہیں اور پھر رات گئی بات گئی کے مصداق فائلیں بند اور پھر کسی نئے حادثے تک گہرا سکوت تاری ہوجاتا ہے۔ مگر کہتے ہیں نہ کہ جہاں ہماری سوچ ختم ہوتی ہے وہاں سے اس پاک ذات کی قدرت شروع ہوجاتی ہے جو بہترین انصاف کرنے والا ہے اور خون اپنی گواہی خود دیتا ہے سانحہ ساہیوال کے مقتولین کا لہو بھی پکار پکار کر اپنے قاتلوں کی نشاندہی کررہا ہے بہت ہوگیا اب بس کرو۔ وزیراعظم عمران خان کنٹینر پر چڑھ کر بلند و بانگ دعوے کیا کرتے تھے کہ عوام کا تحفظ ریاست کی ذمے داری ہے ہم متلاشی ہیں اس عمران خان کے جو مظلوم پر ظلم کیے جانے پر آواز بلند کرتا تھا اور انصاف دلانے کی بھرپور کوشش کرتا تھا۔ محض اہلکاروں کو حراست میں لینا کافی نہیں ہے اس کے پیچھے چھپے ان بڑے مگرمچھوں کو بے نقاب کیا جائے جن کے حکم اور ایما پر یہ آگ و خون کا گھناؤنا کھیل کھیلا جاتا ہے، قوم اس سانحے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور حکومت سے سوال ہے کہ آخر بے گناہ افراد کب تک قانون اور انصاف کے نام پر قتل ہوتے رہیں گے؟؟