مقبول خبریں
حاجی محمد شبیر کی رہائش گاہ پر روحانی محفل کا انعقاد، پیر ابو احمدمقصود مدنی کی خصوصی شرکت
بھارتی ہائی کمیشن کے باہر کشمیریوں کا احتجاجی مظاہرہ،لندن کی فضا آزادی کے نعروں سے گونج اٹھی
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس برطانیہ کے صدر راجہ اسحاق کالندن مظاہرے میں شرکت کا اعلان
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
پھر ہم نے وہ چراغ ہوا کو تھما دیا!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بغیر فرد جرم عائد کیے راجہ ارشد کو زیر حراست نہ رکھا جائے:بیٹے اور رفقا کی پریس کانفرنس
مانچسٹر :دو سال پہلے پاکستان کے شہر راولپنڈی میں فہد ملک قتل کیس میں تین افراد کو شبہ کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا جن میں سے ایک شخص ممتاز کاروباری شخصیت رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں نمایاں مقام رکھنے والے راجہ ارشد بھی تھے جو خود تھانہ گئے اور عدالت میں بھی پیش ہوئے وہ ضمانت پر تھے کہ انہیں گرفتار کیا اور تب سے بغیر کسی فرد جرم عائد ہونے کے زیر حراست ہیں اور یہ الزام اور پچھلے دو سال سے عدالت کی طرف سے انصاف کی تلاش میں ہیں اور جب ہر طرف سے مایوسی اور ناامیدی کے بادل جھانے لگے تو انکے خاندان کے افراد نے مانچسٹر کے مقامی ریسٹورنٹ ہال میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس کی ۔اس موقع پر انکا کہنا تھا کہ پریس کانفرنس کا مقصد پاکستان کے۔مکمہ پولیس اور عدالت عظمیٰ سے استدعا کرنی ہے کہ وہ راجہ ارشد کو انصاف دلوائیں۔انہوں نے وزیر اعظم عمران خان اور چیف جسٹس سے براہ راست درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور راجہ ارشد کو انصاف دلوائیں۔جیسےمن خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں لینڈ اور دیگر مافیا سرگرم عمل ہیں انہی قداور اور اثرورسوخ والی شخصیات نے راجہ ارشد کو قتل کے مقدمہ میں پھنسایا ہے ان کا مذید کہنا تھا کہ ہماری تمام تر ہمدردی فہد ملک کے خاندان کے ساتھ ہیں فہد ملک کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قانون کے مطابق سزا ملی چاہیے ۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ ہمیں انصاف پر مبنی انکوائری چاہیے اور جو لوگ اس میں ملوث ہیں انکے قانونی کاروائی کی جائے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے دنوں ممبر برطانوی افضل خان نے بیس ممبران برطانوی پارلیمنٹ کے دستخطوں سے ایک خط لکھا اور ان میں سے ایک نام بیرسٹر طاہر اشرف کے دستخط بھی ہیں حالانکہ وہ ممبر برطانوی پارلیمنٹ نہیں ہیں ہم ان ممبران برطانوی پارلیمنٹ سے اس بات کی تصدیق کرنا چاہتے ہیں کہ آیا انہوں نے اس خط پر دستخط کیے یا کہ وہ جعلی تھے ۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ ہمارا مسئلہ ممبر برطانوی پارلیمنٹ افضل خان سے نہیں اس خط سے ہے جو لکھا گیا ہے کہ آیا وہ اصلی ہے یا جعل سازی ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے حالیہ دورہ برطانیہ کے دوران انہوں نے لوگوں سے پاکستان میں انکے معاملات بارے آگاہی حاصل کی تھی ہم نے بھی اپنی درخواست ان تک پہنچائی تھی چیف جسٹس تک ہماری درخواست پہنچ چکی ہے لیکن اس پر ابھی تک کوئ عمل درآمد نہیں ہوا جب بھی ہم پاکستان میں انصاف کے لیے دستک دی تو ہمیں قطار میں لگا دیا گیا ان کا کہنا تھا کہ نئے پاکستان میں انصاف سب کو ملنا چاہیے اس کے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا ہم انصاف کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور جب تک نہیں ملتا ہم ہر فورم پر صدائے احتجاج بلند کریں گے ۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر